@muzo580: بیٹیوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا، حتیٰ کہ جس گھر میں پیدا ہوتی ہے وہ بھی نہیں، وہ گھر جسے وہ اپنی دنیا سمجھتی تھیں، ایک دن وہ بھی ان سے چھین لیا جاتا ہے، کبھی فرض کا نام دے کر تو کبھی قرض کا نام دے کر۔۔ ہم کیا کوئی بلی کی بکریا ہیں کیا۔۔؟ جو یوں قربان کر دی جاتی ہیں۔۔ ماں باپ بیٹیوں کی شادی کرتے ہیں، کہ اپنے گھر کی ہو جائیں گی۔۔ کون سا گھر۔۔۔۔۔۔۔؟ ایک کمرہ ملتا ہے، وہاں بھی سکون سے نہیں رہنے دیتے بیٹی کا گھر بسانے کے لیے اسے ایک گھر دینے کے لیے شادی کرتے ہیں، لیکن وہ گھر بنتے بنتے یا تو اسے نفسیاتی بنایا جاتا ہے، یا تو اس کے جسم سے ساری توانائی ختم کر دی جاتی ہے۔ جب اسے گھر ملتا ہے تب تک وہ پچاس، ساٹھ کی بوڑھی عورت بن جاتی ہے۔۔ #underpoetry #dontunderreviewmyvideo #creatorsearchinsights #fyyyyyyyyyyyyyyyyyyy #fppppppppppppppppppp