@sinemvw: #babaflow #uzi #motive #mortalkombat #izmir

𝑠𝑖𝑛𝑒𝑚⭒
𝑠𝑖𝑛𝑒𝑚⭒
Open In TikTok:
Region: TR
Saturday 12 September 2026 21:50:51 GMT
33317
3861
24
153

Music

Download

Comments

derinozden1
Derin Ozden :
en iyi sarkisi olabilir
2026-09-15 13:18:42
7
crascex
𓍯 :
inanilmaz kaliteli ya baska video var mi
2026-09-13 07:27:07
7
seyo_malkoc
Seyo :
babaflow broo
2026-09-13 11:28:42
7
frv5ifty6ix
frv⁵⁶ :
şarkı adı ne
2026-09-13 14:20:43
4
riggieolo
riciolo :
babaflow brooooooooğğğğğgğğggğgğ
2026-09-14 21:31:41
3
efes4w
efes4w :
2026-09-13 21:40:29
2
yasar_19034
Yaşar Tektaş :
2026-09-13 14:12:52
3
merhaba_217
pov丨Enes :
ilk
2026-09-12 21:56:14
1
06dirandin
Ahmet Hüseyin :
2026-09-12 22:15:11
2
gulenadam818
h.e :
ooo video tutmuş
2026-09-16 19:58:12
0
ugurckan
ugurckan :
💪🏻
2026-09-14 20:54:30
0
samelchavo
şam🩸 :
2026-09-14 19:28:48
0
yasar.elcavo
yasarelchavo :
🥰
2026-09-14 17:17:56
0
cemttsd
Cem Saruhan :
Dm bakar mısın 😇
2026-09-16 13:39:47
0
ichbiinazraa2
azraa🃏 :
fena cekmissin cnm bizde arkadan cekemedik
2026-09-12 23:31:02
1
q.vail35
﮼وائل. :
Şehrimize bu kombinle gelmesi ne ya
2026-09-13 13:12:50
2
ceko001
Ceko :
O ipler ne ya
2026-09-13 12:27:08
2
hasert53
Hasret :
@Uzi
2026-09-13 16:33:02
2
To see more videos from user @sinemvw, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

السلام علیکم دوستو! صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیاں قرآن کا عملی نمونہ تھیں۔ ان میں سے ہر ایک کی شان نرالی تھی، لیکن قبیلہ بنو عبد الاشهل کے چشم و چراغ، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا مقام بالکل الگ تھا۔ انہیں اللہ کے رسول ﷺ نے امت کے وہ راز عطا کیے تھے جو کسی اور کے سینے میں نہیں رکھے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ انہیں
السلام علیکم دوستو! صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیاں قرآن کا عملی نمونہ تھیں۔ ان میں سے ہر ایک کی شان نرالی تھی، لیکن قبیلہ بنو عبد الاشهل کے چشم و چراغ، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا مقام بالکل الگ تھا۔ انہیں اللہ کے رسول ﷺ نے امت کے وہ راز عطا کیے تھے جو کسی اور کے سینے میں نہیں رکھے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ انہیں "صاحبِ سرّ النبی" (نبی کے رازوں کے امین) کے لقب سے یاد کرتی ہے۔ ​منافقین کی خفیہ فہرست اور امانتِ نبوی: مدینہ منورہ میں اسلام کی طاقت بڑھ رہی تھی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو بظاہر مسلمان بن کر رہتے تھے لیکن دل سے کفار کے ساتھ ملے ہوئے تھے—یعنی منافقین۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ پر وحی کے ذریعے ان تمام منافقین کے نام ظاہر کر دیے گئے تھے۔ لیکن رحمتِ عالم ﷺ نے اپنے حلم اور حکمت کی وجہ سے عام مسلمانوں پر ان کے نام ظاہر نہیں فرمائے، البتہ یہ تمام نام اور ان کی فہرست صرف اور صرف حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے کانوں میں راز داری کے ساتھ بتا دیے گئے اور فرما دیا گیا: "اے حذیفہ! یہ امانت صرف تمہارے پاس رہے گی!" ​اس دن کے بعد سے حضرت حذیفہ ؓ کا حال یہ ہو گیا کہ وہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور بوجھ اپنے سینے میں اٹھائے پھرتے تھے۔ وہ مدینہ کی ہر گلی اور ہر محفل میں نگاہ رکھتے کہ کون منافق ہے اور کون سچا مومن، لیکن زبان پر تالا لگا رہتا کیونکہ یہ آقا کریم ﷺ کی امانت تھی۔ ​حضرت عمر فاروق ؓ کا لرزہ خیز سوال: حضرت حذیفہ ؓ کی اس امانت کے بارے میں مدینہ کے خلیفہ، امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خوب جانتے تھے۔ حضرت عمر ؓ جیسے جلیل القدر خلیفہ، جن کے نام سے شیطان بھی راہ بدل لیتا تھا، ان کے دل میں بھی ہمیشہ ایک خوف رہتا تھا! ​ایک دن، حضرت عمر فاروق ؓ نے گھبرا کر حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کا ہاتھ پکڑا، انہیں ایک الگ کونے میں لے گئے، اور ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور انتہائی رقت بھرے لہجے میں پوچھا: ​"اے حذیفہ! خدا کے واسطے مجھے بتاؤ... کیا رسول اللہ ﷺ نے منافقین کی جو فہرست تمہیں بتائی تھی، اس میں میرا نام بھی شامل تو نہیں ہے؟ کیا عمر بھی منافقوں میں تو نہیں آتا؟" ​یہ منظر دیکھ کر حضرت حذیفہ ؓ کا دل دہل گیا! وہ شخصیت جس کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت مل چکی تھی، جو انصاف کا پہاڑ تھے، وہ آج ایک رازدار کے سامنے اپنے ایمان کے بارے میں کانپ رہے تھے۔ حضرت حذیفہ ؓ نے روتے ہوئے کہا: ​"نہیں اے امیر المؤمنین! خدا کی قسم! آپ کا نام اس فہرست میں ہرگز نہیں ہے، اور آپ کے بعد میں کسی اور کو یہ بات نہیں بتاؤں گا!" ​یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے سکھ کا سانس لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ ​حضرت حذیفہ ؓ کی زندگی کا خوف اور پرہیزگاری: حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کا اپنا یہ عالم تھا کہ وہ پوری زندگی انتہائی احتیاط کے ساتھ گزارتے تھے۔ جب بھی مدینہ میں کسی کا جنازہ ہوتا، تو حضرت حذیفہ ؓ دیکھتے کہ اگر حضرت عمر بن خطاب ؓ اس جنازے کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہو رہے ہیں، تو وہ بھی شامل ہو جاتے، ورنہ اگر حضرت عمر ؓ کسی جنازے میں شرکت نہ کرتے، تو حضرت حذیفہ ؓ بھی اس جنازے سے دور رہتے—کیونکہ وہ سمجھ جاتے تھے کہ یہ شخص منافقوں میں سے تھا جس کا جنازہ خلیفہ نے نہیں پڑھایا! ​پوری زندگی انہوں نے اس راز کو امانت کی طرح سنਭال کر رکھا، اور جب ان کا آخری وقت آیا، دنیا سے رخصت ہونے لگے، تو ان کے چہرے پر خوفِ خدا اور شوقِ لقاء اللہ کا ایک عجیب نور تھا۔ انہوں نے انتقال سے پہلے فرمایا: "آج ایک دوست آرہا ہے، وہ شخص کامیاب ہو گا جو ندامت کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہو!" اور اس طرح یہ رازدارِ رسول دنیا سے پردہ فرما گئے۔ ​واقعے کا حاصل و سبق: حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کا یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل تقویٰ اور ایمان نام ہے اپنے اعمال کے بارے میں ہمیشہ فکرمند رہنے کا۔ جتنی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، اتنا ہی خوفِ خدا دل میں بڑھ جاتا ہے۔ ​اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو سچا ایمان، خوفِ خدا اور صحابہ کرام جیسی پاکیزہ سیرت نصیب فرمائے۔ آمین! 🤲 ​📚 مستند حوالہ جات اور کتبِ ذکر (References): ​یہ ایمان افروز اور تاریخی واقعہ حدیث اور سیرت کی معتبر ترین کتب میں موجود ہے: ​صحیح البخاری (کتاب المغازی، باب غزوة الخندق)۔ ایسی ہی ایمانی، رقت انگیز اور دل کو چھو لینے والی اسلامی تحاریر کے لیے ہمارے پیج "حکایتِ بصیرت" کو فالو کریں اور اس پوسٹ کو شیئر کر کے صدقہ جاریہ کا حصہ بنیں۔ 🌿 #حکایت_بصیرت #islamic_video #foryou #TikTokIslamic #viral ​Hikayat e Basirat, Huzaifa Bin Yaman, Sahib E Sirun Nabi, Seerat Sahaba, Sachi Islami Kahani, Heart Touching Stories, Khof E Khuda, Munafiqeen Ki Fehrist

About