@blushy_baddie_2: کبھی کبھی جدائی دونوں کی خواہش نہیں ہوتی۔ وہ چاہتا تھا، شاید اب بھی چاہتا ہو، مگر حالات، خاموشیاں اور کچھ غلط فہمیاں ایسی تھیں کہ راستے الگ ہو گئے۔ میں نے ہی پہلے اُس کا ہاتھ چھوڑا، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اُس کے حصے کی ندامت بھی میں نے اپنے دل پر رکھ لی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جو شخص رشتہ ختم کرتا ہے، اُسے شاید کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھی چھوڑنے والا شخص ہی سب سے زیادہ ٹوٹتا ہے۔ ہاتھ چھوڑ دینا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر اُس شخص کا جسے دل نے کبھی اپنے قریب رکھنے کی دعا کی ہو۔ میں نے شاید اُس وقت وہ فیصلہ کیا جو مجھے درست لگا، مگر دل نے اُس فیصلے کی قیمت بہت دیر تک ادا کی۔ بار بار یہی خیال آیا کہ اگر میں اُس وقت رک جاتی تو کیا ہوتا؟ اگر ایک بار اور بات کر لیتی؟ اگر اپنی ضد، خوف اور خاموشی کو ایک طرف رکھ دیتی تو شاید کہانی کچھ اور ہوتی۔ مگر زندگی میں ہر “اگر” کا جواب نہیں ملتا۔ کچھ فیصلے واپس نہیں لیے جا سکتے، کچھ ہاتھ دوبارہ نہیں تھامے جا سکتے، اور کچھ لوگ چاہنے کے باوجود بھی قسمت میں ساتھ نہیں لکھے ہوتے۔ مجھے آج بھی افسوس ہے، مگر شاید اُس سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ میں نے صرف اپنا نہیں، اُس کا حصہ بھی اپنے دل پر لے لیا۔ اُس کی خاموشی کو بھی اپنی غلطی سمجھا، اُس کی اداسی کو بھی اپنے نام کیا، اور اُس کے حصے کی ندامت بھی خود برداشت کرتی رہی۔ شاید محبت کا سب سے مشکل مرحلہ یہی ہوتا ہے کہ انسان جانتا ہے کہ دونوں کے دل میں احساس تھا، مگر پھر بھی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکے۔ میں نے اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا، مگر اُس کی یاد کو نہیں۔ اور شاید اسی لیے آج بھی کبھی کبھی دل کہتا ہے کہ کاش اُس دن ہاتھ چھوڑنے کے بجائے تھوڑا اور مضبوطی سے تھام لیا ہوتا۔ لیکن اب جو ہو چکا، اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ بس اتنا سیکھ لیا ہے کہ ہر جدائی میں ایک شخص قصوروار نہیں ہوتا، کبھی کبھی دونوں ہی حالات کے ہاتھوں ہار جاتے ہیں۔ اور میں؟ میں آج بھی اُس کے حصے کی ندامت لیے بیٹھی ہوں، حالانکہ شاید اُسے کبھی معلوم بھی نہ ہو کہ اُسے چھوڑنے کے بعد میں نے خود کو کتنی بار سمجھایا تھا کہ میں نے غلط نہیں کیا… اور پھر بھی دل ہر بار یہی کہتا رہا کہ شاید میں نے اُسے بہت جلدی چھوڑ دیا تھا۔ ہیر ❤️🩹 #foryoupage #creatorsearchinsights #unfreezmyaccounttiktokteam