@sabena.dosenoffcial: Organisasi kampus #belajarbersama #organisasikampus @AKADEMISI @Sabena

Dr. Sabena.dosen
Dr. Sabena.dosen
Open In TikTok:
Region: ID
Sunday 13 September 2026 12:18:16 GMT
3313
114
9
16

Music

Download

Comments

user97767199235153
user9776719923515 Bunda ibah :
caranya gimana bu dosen anak saya masih malu dan takut sekarang Alhamdulillah sdh daftar tahfid Qur an
2026-09-13 18:48:07
1
japlik00
mbayani :
#Semoga hatinya baik , pikiranya baik , kepribadian baik, berikan iman yang kuat, selalu diarah kan jalan yang benar ,menjauhi godaan negatif , selalu amanah, dan , BERTANGGUNG JAWAB.
2026-09-13 13:20:35
1
tegarrr0823
apalah :
bagusnya berapa 9rgan8sasi bu
2026-09-13 13:34:42
1
wiwie8438
wiwie :
Alhamdulillah anak qu ikut organisasi Bu dosen
2026-09-14 09:55:38
1
To see more videos from user @sabena.dosenoffcial, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

انسانی زندگی کا سب سے تلخ اور ناقابلِ تردید سچ یہی ہے کہ انسان کو غیروں سے اتنی تکلیف نہیں پہنچتی، جتنی وہ اپنے ان اپنوں اور خوابوں سے زخمی ہوتا ہے جنہیں وہ خود اپنے ہاتھوں سے پالتا ہے۔ یہ امیدیں اور توقعات وہ خاموش زہر ہیں جو انسان کے اندر دھیرے دھیرے اثر کرتا ہے۔ جب ہم کسی شخص، کسی رشتے یا کسی آنے والے کل سے ضرورت سے زیادہ وابستہ ہو جاتے ہیں، تو ہم دراصل اپنے ہی ہاتھوں اپنی شکست کا سامان تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ توقعات کسی غیب کے پھندے کی طرح انسان کے گلے کا طوق بن جاتی ہیں۔ دن گزرنے کے ساتھ جب یہ امیدیں پوری نہیں ہوتیں، تو ان کا بوجھ اتنا بھاری ہو جاتا ہے کہ انسان کا اندرونی وجود ریزہ ریزہ ہونے لگتا ہے۔ روح تھک جاتی ہے، اعصاب جواب دے جاتے ہیں اور وہ شخص زندہ ہوتے ہوئے بھی لاش کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان دوسروں کو الزام دیتا ہے، جبکہ حقیقت میں اس کی _لگائی ہوئی توقعات_ ہی اس کی سب سے بڑی قاتل بن چکی ہوتی ہیں۔ #viralvideo  #foryou
انسانی زندگی کا سب سے تلخ اور ناقابلِ تردید سچ یہی ہے کہ انسان کو غیروں سے اتنی تکلیف نہیں پہنچتی، جتنی وہ اپنے ان اپنوں اور خوابوں سے زخمی ہوتا ہے جنہیں وہ خود اپنے ہاتھوں سے پالتا ہے۔ یہ امیدیں اور توقعات وہ خاموش زہر ہیں جو انسان کے اندر دھیرے دھیرے اثر کرتا ہے۔ جب ہم کسی شخص، کسی رشتے یا کسی آنے والے کل سے ضرورت سے زیادہ وابستہ ہو جاتے ہیں، تو ہم دراصل اپنے ہی ہاتھوں اپنی شکست کا سامان تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ توقعات کسی غیب کے پھندے کی طرح انسان کے گلے کا طوق بن جاتی ہیں۔ دن گزرنے کے ساتھ جب یہ امیدیں پوری نہیں ہوتیں، تو ان کا بوجھ اتنا بھاری ہو جاتا ہے کہ انسان کا اندرونی وجود ریزہ ریزہ ہونے لگتا ہے۔ روح تھک جاتی ہے، اعصاب جواب دے جاتے ہیں اور وہ شخص زندہ ہوتے ہوئے بھی لاش کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان دوسروں کو الزام دیتا ہے، جبکہ حقیقت میں اس کی _لگائی ہوئی توقعات_ ہی اس کی سب سے بڑی قاتل بن چکی ہوتی ہیں۔ #viralvideo #foryou

About