@arwriter38: ہجر صرف دل میں نہیں رہتا۔ ... آہستہ آہستہ رگوں میں اتر جاتا ہے۔ پھر نیند مر جاتی ہے۔ بھوک اجنبی لگنے لگتی ہے۔ ... بنسی ہونٹوں تک آ کر ٹوٹ جاتی ہے۔ ... باتیں الفاظ بننے سے پہلے ہی بکھر جاتی ہیں۔ ... آنکھیں بر وقت کسی کو ڈھونڈتی رہتی ہیں۔ دل... ہر دھڑکن کے ساتھ تھوڑا تھوڑا بکھرتا رہتا ہے۔ ... سانس صرف چلتی ہے۔ ... زندگی وہیں کہیں رک جاتی ہے۔ .... پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان درد محسوس کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ وہ خاموش رہتا ہے۔ .... مگر اس کی خاموشی چیخوں سے زیادہ شور مچاتی ہے۔ ... اور پھر وہ کسی ایک دن نہیں ٹوٹتا۔ ... وہ تو ہر دن... ہر لمحہ تھوڑا تھوڑا ختم ہوتا رہتا ہے۔ #fyp #foryou