کچھ خسارے ایسے تھے جن کے بعد ہم بولنا بھول گئے
دل تو زندہ رہا مگر ہنسنا، رونا سب بھول گئے
جنہیں اپنا سمجھا تھا، وہی اجنبی بن کر ملے
ہم اپنے ہی دل کی باتیں ان سے کہنا بھول گئے
وقت نے ایسے زخم دیے کہ مرہم بھی کم پڑ گئے
ہم درد سہتے رہے مگر درد بتانا بھول گئے
کبھی خوابوں سے سجایا تھا جنہیں اپنی دنیا میں
وہ خواب ٹوٹے تو ہم خواب دیکھنا بھول گئے
اب نہ شکوہ کسی سے ہے، نہ کسی سے کوئی گلہ
بس اتنا ہوا کہ ہم خود کو سمجھنا بھول گئے۔
2026-09-13 19:01:35
2
To see more videos from user @ahmer_officialy, please go to the Tikwm
homepage.