@saeedkhan.369: میں اور آپ، بلکہ ہم سب یہی سوچتے ہیں کہ شادیاں محبت سے چلتی ہیں، جب محبت نہ ہو تو گھر ناکام ہو جاتے ہیں، اور ہمیں ہمیشہ یہی تو سکھایا گیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سورۃ روم میں نکاح کے متعلق کچھ اور فرمایا ہے۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً اور اس نے تمہارے درمیان مودت اور رحمت رکھ دی۔ اللہ تعالی نے "حب" یعنی محبت کا لفظ نہیں استعمال کیا ، بلکہ اللہ تعالی نے دو اور لفظ کہے، مودت اور رحمت۔ اب یہاں ایک لمحے کے لیے رکیں اور سوچیں کہ یہ دونوں الفاظ “محبت” سے کس طرح مختلف ہیں۔ ”محبت“ ایک جذبہ ہے، ایک احساس ہے، ایک آگ ہے جو بھڑکتی ہے اور بعض اوقات بجھ بھی جاتی ہے۔ محبت میں ضروری نہیں ہے کہ سکون ہو، بعض اوقات محبت بے قراری لاتی ہے، بے چینی لاتی ہے، جلن لاتی ہے۔ اور ایک وقت آتا ہے کہ یہ جذبہ ٹھنڈا بھی پڑ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ”مودت “ کیا ہے؟ جسکا ذکر قرآن میں ہوا ہے۔ ہم نار ملی مودت کو بھی محبت کا نام دے دیتے ہیں، لیکن ان میں بار یک سا فرق ہے۔ محبت کا مطلب ہے آپ مجھے چاہیے ہیں، مجھے آپکو حاصل کرنا ہے۔ لیکن مودت کا مطلب ہے کہ آپکو میری ضرورت ہے تو میں موجود ہوں۔ محبت خود کی ضرورت ہے، مودت دوسرے کی ضرورت ہے۔ مودت میں محبت کا پہلو ضروری نہیں ہے، احساس کا پہلو ضروری ہے۔ یعنی دوسرے شخص کو اول رکھنا ضروری ہے۔ مودت میں خواہشات بعد میں آتی ہیں، پہلے کمفرٹ زون آتا ہے۔ جبکہ محبت اسکے برعکس ہے۔ آئیے میں آپکو قرآن سے مثال سمجھاتا ہوں... قرآن میں لفظ ”محبت“ صرف ایک بار آیا ہے، اور وہ بھی رومانوی تعلق کے سیاق میں، خواہش اور حصول کے سیاق میں ... اور وہ ہے سورہ یوسف کے اندر۔ جب عزیز مصر کی بیوی نے کہا قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا اس شخص کی محبت نے اس کے دل کو گھیر لیا ہے۔“ یعنی وہ عورت حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت میں دیوانی ہو گئی، اور وہی محبت اسے گناہ کی طرف لے گئی، اور حضرت یوسف نے اس سے بچنے کے لیے جیل کو ترجیح دی۔ یعنی قرآن خود بتا رہا ہے کہ محبت میں خواہش اور حصول کو اول رکھا جاتا ہے، اپنی خوشی اور اپنی چاہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اور اسی سے تباہی آتی ہے۔ جبکہ نکاح چلتا ہے مودت سے، رحمت سے۔ حالانکہ ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم شادی سے پہلے ”محبت“ ڈھونڈتے ہیں اور شادی کے بعد جب وہ جذبہ قدرتی طور پر مدہم پڑتا ہے تو سوچتے ہیں کہ محبت ختم ہو گئی، گھر ٹوٹ گیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہی نہیں تھا کہ گھر محبت سے چلتا ہے ، اللہ تعالی نے کہا گھر مودت اور رحمت سے چلتا ہے۔ مودت اور رحمت بنانی پڑتی ہے، کمانی پڑتی ہے، وقت دینا پڑتا ہے، صبر کرنا پڑتا ہے، غلطیاں معاف کرنی پڑتی ہیں، تکلیفیں سہنی پڑتی ہیں، اور آہستہ آہستہ اس تعلق میں مضبوطی اور شفقت آتی ہے۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ذرا آگے دیکھئے ... آگے سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے کہا کہ وَجَعَلَ بَيْنَكُم یعنی اللہ تعالی نے یہ مودت اور رحمت خود رکھی ہے، اللہ تعالی نے یہ خود پیدا کی ہے۔ یعنی جب دو لوگ اللہ کے نام پر ایک ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ خود ان کے درمیان مودت اور رحمت ڈال دیتا ہے، یہ کہیں باہر سے نہیں آتی، یہ اللہ کی طرف سے تحفہ ہے۔ تو اگر آج آپکے کسی رشتے میں وہ سکون نہیں ہے جو ہونا چاہیے، تو شاید اس لیے کہ آپ نے محبت تو ڈھونڈی لیکن مودت اور رحمت بنانے کی کوشش نہیں کی۔ جبکہ مودت اور رحمت کا راستہ صبر سے ہے، درگزر سے ہے، قربانی سے ہے، اور سب سے بڑھ کر اس یقین سے ہے کہ اللہ نے جو یہ بندھن باندھا ہے، اللہ تعالی خود اس میں اپنی رحمت ڈالتا ہے، بس ہمیں اس رحمت کے لائق بنا ہے۔ آور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جسکو یہ دونوں نصیب ہوتی ہے #motivation #inspiredawesomelife #nikah #healing #unfrezzmyaccount