سقراط یونان کا ایک فلسفی تھا ، وہ بہت عقلمند تھا وہ ریاست اور مذہب کی باتیں سن کر مانتا نہیں تھا بلکہ پہلے سوچتا تھا اور نوجوانوں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتا تھا تاکہ نوجوانوں کو شعور آئے مگر ریاست کو کہاں یہ بات برداشت ہوتی ہے اور جو مذہب کے نام پر گمراہ کرتے ہیں اُن کو بھی یہ بات ہضم نہیں ہوتی کے کوئی ان کے خلاف بولے اس لیے سقراط پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے اس لیے اُسے سزائے موت دی گئی اور زہر پینے کا بولا گیا اُس کے پاس دو راستے تھے یا تو زہر پی لے یا پھر اپنی باتوں کو غلط بول کر جان بچا لے مگر سقراط نے زہر پی لیا اس لیے وہ آج بھی زندہ ہے ہمارے ذہنوں میں سقراط اگر سمجھوتہ کر لیتا زہر نہ پیتا تو وہ خود کو غلط بول کر اپنی نظروں میں مر جاتا
2026-09-14 13:46:12
1178
MTK :
اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں
ورنہ سقراط کب کا مر گیا ہوتا
2026-09-15 03:06:13
159
🖤 :
جب دُعا قبول نہ ہو رہی ہو کسی سے کروا لینی چاہیے آپ سب میرے لیے دعا کرے میں نے اللّٰہ پاک سے ایک دعا مانگتی ہوں اللّٰہ پاک میری دُعا پر کن فرما دے کوئی وسیلہ بنا دے معجزہ کر دے میرے لیے
کیا پتہ کس کی زبان سے کی ہوئی دعا میرے حقِ میں قبول ہو جائے
پلیز سب میرے لیے دعا کریں پلیز
2026-09-15 00:34:25
92
Shah g khety hai 7890 :
ek legend tha. insan ko apny mushkil waqkt me be mazbut ryna chayea wo yea bat seka gayea
2026-09-14 16:17:51
1
Altaf Ak King👿 :
q k use apna zameer marta so us ne zinda rwhna choose kia
2026-09-15 19:53:17
0
najmagulnaz607 :
wo shbnm ka ashik tha
2026-09-14 17:23:51
51
الف ـــ ایک :
سقراط افلاطون کا استاد تھا۔۔ سقراط کو دو آپشن دیے گئے یا تو شہر چھوڑ کر بھاگ جائو جلاوطن یا زہر پیو اس نے عزت کی موت کو ترجیع دی ذلت کی زندگی پر
2026-09-14 08:01:24
105
Alii 🤴 :
because he know the end🥰
2026-09-14 19:57:45
1
Rana :
سقراط (Socrates) قدیم یونان کا عظیم فلسفی تھا۔ وہ لوگوں کو سچ کی تلاش، سوال کرنے اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی تعلیم دیتا تھا۔ جب ایتھنز کی عدالت نے اسے اپنے نظریات سے پیچھے ہٹنے یا موت کی سزا قبول کرنے کے درمیان انتخاب دیا تو اس نے اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے کے بجائے زہر کا پیالہ قبول کیا۔
البتہ یہ بات واضح ہے کہ سقراط نے اسلام کے بارے میں براہِ راست کوئی بات نہیں کی، کیونکہ وہ اسلام کے ظہور سے کئی صدیاں پہلے وفات پا چکا تھا۔ اس کے واقعے کا اصل سبق یہ ہے کہ انسان اپنے سچ اور اصولوں کا سودا صرف اپنی جان بچانے کے لیے نہ کرے۔ سقراط اپنے مؤقف پر آخر دم تک قائم رہا، اور یہی ثابت قدمی اسے تاریخ میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔
2026-09-14 10:06:25
38
رُوحِ مَن :
pata yr aj subha ye line mare zehan mein a rhi thi or ab post khud samne a gai 😳
2026-09-15 06:12:35
9
Ꮓee🌷✨ :
سقراط یونان کا ایک فلسفی تھا ، وہ بہت عقلمند تھا وہ ریاست اور مذہب کی باتیں سن کر مانتا نہیں تھا بلکہ پہلے سوچتا تھا اور نوجوانوں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتا تھا تاکہ نوجوانوں کو شعور آئے مگر ریاست کو کہاں یہ بات برداشت ہوتی ہے اور جو مذہب کے نام پر گمراہ کرتے ہیں اُن کو بھی یہ بات ہضم نہیں ہوتی کے کوئی ان کے خلاف بولے اس لیے سقراط پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے اس لیے اُسے سزائے موت دی گئی اور زہر پینے کا بولا گیا اُس کے پاس دو راستے تھے یا تو زہر پی لے یا پھر اپنی باتوں کو غلط بول کر جان بچا لے مگر سقراط نے زہر پی لیا اس لیے وہ آج بھی زندہ ہے ہمارے ذہنوں میں سقراط اگر سمجھوتہ کر لیتا زہر نہ پیتا تو وہ خود کو غلط بول کر اپنی نظروں میں مر جاتا
2026-09-15 06:05:35
49
sufyan_khokher_154 :
سقراط زہر نہ بھی پیتا تو مر جاتا" — اس جملے کا مطلب
یہ مقولہ یا جملہ دو اہم وجوہات کی بنا پر بولا جاتا ہے:
جسمانی حقیقت (70 سال کی عمر):
جب سقراط کو زہر دیا گیا، اس کی عمر تقریباً 70 سال ہو چکی تھی۔ اس زمانے کے لحاظ سے یہ کافی بڑی عمر تھی۔ اگر اسے زہر نہ بھی دیا جاتا، تو وہ اپنی قدرتی عمر پوری کر کے جلد ہی فوت ہو جاتا۔
2026-09-15 05:35:36
19
Aliee Jan :
aese nahi hai,
اگر سقراط زہر نا پیتا تو مر جاتا
this is the right one
2026-09-14 16:27:16
14
Glowup :
نئے انسان سے تعارف جو ہوا تو بولا
میں ہوں سقراط مجھے زہر پلایا جائے
2026-09-14 08:45:53
26
kami korai :
سقراط با غی (بغاوت کرنے والوں میں سے) تھا اسلئے اس کو زہر دیا گیا
لیکن اس نے بغاوت سچ پر کی تھی وہ نوجوانوں کو اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کا کہتا تھا
2026-09-15 04:11:21
13
Noor Nawaz :
یہ بات فلسفے کی ایک مشہور مثال ہے:
سقراط انسان تھا، اور ہر انسان کو مرنا ہوتا ہے — چاہے وجہ کچھ بھی ہو۔ اسے زہر پلا کر مارا گیا، لیکن زہر نہ بھی ہوتا تو وہ کسی اور وجہ سے ضرور مرتا، کیونکہ مرنا اُس کی فطرت میں تھا۔
مطلب: زہر صرف "فوری وجہ" تھا، مگر مرنا تو "لازمی" تھا۔
2026-09-14 17:00:36
13
Amir Sindo :
🥰 innocent
2026-09-14 20:10:57
2
🇰 🇺 🇲 🇦 🇷 💔 :
اگر وہ زہر نہ پیتا تو فلسفہ کی تاریخ میں مر جاتا اور اس کا نام نہ ہوتا آج اس لیئے کہتے ہیں ۔۔۔
2026-09-14 10:05:46
7
WAHAB 🖤🚩 :
سقراط یونان کا ایک فلسفی تھا ، وہ بہت عقلمند تھا وہ ریاست اور مذہب کی باتیں سن کر مانتا نہیں تھا بلکہ پہلے سوچتا تھا اور نوجوانوں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتا تھا تاکہ نوجوانوں کو شعور آئے مگر ریاست کو کہاں یہ بات برداشت ہوتی ہے اور جو مذہب کے نام پر گمراہ کرتے ہیں اُن کو بھی یہ بات ہضم نہیں ہوتی کے کوئی ان کے خلاف بولے اس لیے سقراط پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے اس لیے اُسے سزائے موت دی گئی اور زہر پینے کا بولا گیا اُس کے پاس دو راستے تھے یا تو زہر پی لے یا پھر اپنی باتوں کو غلط بول کر جان بچا لے مگر سقراط نے زہر پی لیا اس لیے وہ آج بھی زندہ ہے ہمارے ذہنوں میں سقراط اگر سمجھوتہ کر لیتا زہر نہ پیتا تو وہ خود کو غلط بول کر اپنی نظروں میں مر جاتا
2026-09-14 19:29:03
127
*فیضَان*🌸 :
سقراط یونان کا ایک فلسفی تھا ، وہ بہت عقلمند تھا وہ ریاست اور مذہب کی باتیں سن کر مانتا نہیں تھا بلکہ پہلے سوچتا تھا اور نوجوانوں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتا تھا تاکہ نوجوانوں کو شعور آئے مگر ریاست کو کہاں یہ بات برداشت ہوتی ہے اور جو مذہب کے نام پر گمراہ کرتے ہیں اُن کو بھی یہ بات ہضم نہیں ہوتی کے کوئی ان کے خلاف بولے اس لیے سقراط پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے اس لیے اُسے سزائے موت دی گئی اور زہر پینے کا بولا گیا اُس کے پاس دو راستے تھے یا تو زہر پی لے یا پھر اپنی باتوں کو غلط بول کر جان بچا لے مگر سقراط نے زہر پی لیا اس لیے وہ آج بھی زندہ ہے ہمارے ذہنوں میں سقراط اگر سمجھوتہ کر لیتا زہر نہ پیتا تو وہ خود کو غلط بول کر اپنی نظروں میں مر جاتا