“اٹھائے پھرتا رہا میں بہت محبت کو
، پھر ایک دن یوں ہی سوچا یہ کیا مصیبت ہے۔”
چراغ ہاتھ میں ہو تو ہوا مصیبت ہے
سو مجھ مریضِ اَنا کو شفا مصیبت ہے
سہولتیں تو مجھے راس ہی نہیں آتیں
قبولیت کی گھڑی میں دعا مصیبت ہے
اٹھائے پھرتا رہا میں بہت محبت کو
پھر ایک دن یوں ہی سوچا یہ کیا مصیبت ہے
میں آج ڈوب چلا ریت کے سمندر میں
چہار سمت یہ رقصِ ہوا مصیبت ہے
2026-09-15 06:25:54
1
To see more videos from user @mehfil_e_alfaz6, please go to the Tikwm
homepage.