@motivation.farooq: مرزا غالبؔ: یہ شعر انسانی رویّوں اور ہماری امیدوں کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانوں سے حد سے زیادہ امیدیں وابستہ کرنے کے بجائے اپنی امید اور بھروسہ اللہ تعالیٰ سے رکھنا چاہیے۔ جب انسانوں سے توقعات پوری نہ ہوں تو شکایت بھی اللہ سے نہیں بلکہ اپنے رویّے اور توقعات پر غور کرنا چاہیے۔ علامہ محمد اقبالؔ: یہ شعر آج کے خود غرض دور کی عکاسی کرتا ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے کو یاد رکھنے کے بجائے اپنی مصروفیات اور مفادات میں گم ہیں۔ شاعر اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ انسان دنیا کے معاملات میں اتنا مشغول ہو گیا ہے کہ اسے اپنے رب کی یاد بھی کم رہ گئی ہے۔ پیغام: دونوں اشعار ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ انسانوں سے امیدیں کم اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ زیادہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اصل سہارا اور حقیقی یاد رکھنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ #foryoupage❤️❤️ #foruyou #islamic_media #tikto #LIVEIsEasy