..:*تعلّق بن گیا تھا، بنتے بنتے*
*کہیں پر آنا جانا تو نہیں تھا*
*اور اب کے عشق میں اندازِ دل بھی*
*کچھ ایسا والہانہ تو نہیں تھا*
*عقیلؔ، اپنی طبیعت ہی بُری تھی*
*بھلائی کا زمانہ تو نہیں تھا*
2026-09-14 22:08:42
2
MaaN :
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی اہے دوست لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں اور ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں
Maan💯💯💯