@qa.quote.hub: یہ قول انسان کی ایک تلخ معاشرتی حقیقت اور تعلقات میں توازن کی اہمیت کو بہت بے باک انداز میں بیان کرتا ہے۔ جب کسی ایسے شخص کو اس کی قابلیت، ظرف اور اخلاق سے زیادہ عزت، مقام یا اختیار دے دیا جائے جو اس کا اہل نہ ہو، تو وہ اس عزت کی قدر کرنے کے بجائے تکبر اور بدتمیزی پر اتر آتا ہے۔ عزت کا ہضم ہونا انسان کے اندرونی ظرف پر منحصر ہوتا ہے۔ اعلیٰ ظرف انسان کو جتنی عزت دی جائے، وہ اتنا ہی عاجز اور جھکنے والا بن جاتا ہے، جبکہ کم ظرف انسان کو تھوڑی سی اہمیت ملتے ہی اسے اپنی ذات پر غرور ہو جاتا ہے اور وہ اپنے حدود سے باہر نکلنے لگتا ہے۔ ہم اکثر اپنی حسنِ ظنی اور محبت میں لوگوں کو ان کے مقام سے بہت اوپر بٹھا دیتے ہیں۔ لیکن جب وہ انسان اس غیر معمولی عزت کو اپنی ذاتی طاقت سمجھنے لگے اور آپ کی ہی تحقیر شروع کر دے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ نے غلط جگہ سرمایہ کاری کی تھی۔ زندگی میں انسان کو معاف اور برابری کا رویہ ضرور رکھنا چاہیے، لیکن عزت اور مقام ہمیشہ انسان کے ظرف اور رویے کو دیکھ کر دینا چاہیے۔ ہر شخص کو سر کا تاج بنانے کے بجائے اسے اس کی حدود اور سچی اوقات میں رکھنا ہی آپ کی اپنی خودداری اور سکون کی ضمانت ہے۔ #quotes #urdu #trend #deep #fypviralシ