@Travel with Shabby:ذرا ہوش کے ناخن لیں!
کسی عالمِ دین کو صرف اس لیے نشانہ بنانا کہ انہوں نے کسی مسلمان کا جنازہ پڑھایا، انتہائی افسوسناک رویہ ہے۔ جنازہ سیاسی جلسہ نہیں، عبادت ہے؛ اور جنازہ پڑھانے سے کسی جماعت کی حمایت ثابت نہیں ہوتی۔
مریدکے کے واقعے پر پیرزادہ محمد رضا ثاقب مصطفائی صاحب اپنا مؤقف واضح کر چکے ہیں۔
اس کے باوجود سوشل میڈیا پر آدھی باتیں پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کرنا نہ دیانت ہے، نہ انصاف۔
اختلاف کریں، ضرور کریں؛ مگر الزام لگانے سے پہلے حقیقت بھی دیکھ لیا کریں۔
2026-09-15 04:35:17
0
ع ث م ا ن :
پیر زادہ محمد رضا ثاقب مصطفائی صاحب کی شخصیت کو چند ظاہری واقعات کے ترازو میں تولنے والو
مریدکے کے سانحے کا درد اپنی جگہ شہداء کی یاد اپنی جگہ، مگر ہر واقعے کو دوسرے واقعے کے ساتھ خلط کرنا انصاف نہیں کسی مسلمان کی نمازِ جنازہ پڑھا دینا نہ کسی سیاسی وابستگی کا اقرار ہے، نہ کسی ظلم کی توثیق جنازہ تو دعا، مغفرت اور آخرت کی یاد کا مقام ہے، اسے سیاسی کشمکش کا عنوان بنا دینا مناسب نہیں۔
حضرت نے کسی جماعت کی وکالت نہیں کی، ایک مسلمان میت کی نماز ادا کی ہے۔
جو لوگ اس عبادت سے اپنی مرضی کے مفاہیم اخذ کر رہے ہیں، وہ شاید نیتوں کے اس باب میں داخل ہو رہے ہیں جہاں انسان کو داخل ہونے کا اختیار نہیں اہلِ علم کے فیصلوں کو شورِ بازار نہیں، حکمت و بصیرت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔اختلاف ہو تو ادب کے دائرے میں، سوال ہو تو تحقیق کے قرینے میں، اور تنقید ہو تو انصاف کے میزان پر ایک نمازِ جنازہ کو کسی صاحبِ علم کے پورے کردار کا معیار بنا دینا انصاف نہیں۔کردار کے فیصلے وقتی شور نہیں طویل جدوجہد اور مسلسل عمل کرتے ہیں۔
ہمیں جذبات کے بہاؤ میں بہنے کے بجائے بصیرت، اعتدال اور حسنِ ظن کو زندہ رکھنا چاہیے۔
جو بات سمجھ نہ آئے، اس پر فتویٰ نہیں، تحقیق ہونی چاہیےجو اختلاف ہو، اسے تہذیب سے بیان کیا جائے؛ کیونکہ ادب اختلاف کو بھی وقار عطا کرتا ہےصاحبِ نسبت کی ایک ادا کو اپنے سیاسی زاویوں سے دیکھنا آسان ہے، مگر اس کے پسِ پشت حکمت کو سمجھنا بصیرت کا تقاضا ہے۔
اور یاد رکھیے، اہلِ حق کی رفتار شورِ مخالفین سے متعین نہیں ہوتی؛ وہ اپنے کردار، علم اور اخلاص کے ساتھ اپنا راستہ بناتےہیں