آپ بھی احادیث کو کہانی بنا کر وہ بھی طنزیہ انداز میں پیش کر رہے ہیں بزرگوں کا احترام اپنی جگہ لیکن عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اللہ ایک ہے سب کی سننے والا اور سب کے حال سے باخبر ہے نذر و نیاز بھی اللہ ہی کے لیے مانی جاتی ہے اسی کے نام پر دی جاتی ہے اور اسی سے قبولیت کی امید رکھی جاتی ہے
جُریجؒ کے واقعے میں بھی بچے کا بولنا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے تھا اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہتا تو وہ بچہ بول بھی نہ سکتا اس واقعے سے بھی یہی سبق ملتا ہے کہ اصل قدرت اور اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے
ہم سے پہلے جو نیک لوگ گزر گئے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت مغفرت اور فضل کے محتاج تھے جب وہ خود اللہ کی رحمت کے امیدوار تھے تو حقیقی نفع و نقصان اور مدد کا مستقل اختیار انہیں کیسے دیا جا سکتا ہے؟ نفع و نقصان کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ہم نیک لوگوں کا احترام کریں ان کی اچھی زندگی سے سبق لیں اور ان کے لیے دعا کریں مگر اپنی حاجت اور امید صرف اللہ تعالیٰ سے رکھیں
اللہ تعالیٰ ہی سب کی سنتا ہے سب کا مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے
2026-09-14 19:59:06
5
Asrar :
یلدرم کمال است 🥰🥰🥰🥰
2026-09-14 19:38:31
4
massom :
مفتی حسن رضا یلدرم صاحب اللہ پاک اور اللہ پاک کے پاک عزتوں والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم آپ سے راضی ہوں اور آپ کو شفاعت رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نصیب ہو اور آپ کے صدقے سے آپکو چاہنے والوں سے بھی اللہ اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہوں آمین ثم آمین
2026-09-14 18:13:03
32
𝗞𝗛𝗔𝗟𝗜𝗙𝗔 🏴☠️ :
Juraij Ne Dawa to ni kiya tha k me Asa kar dunga me wesa kar dunga (karamat) or wo Allah ki traf se hoti hai karamt Wali ki mrzi se ni hoti,, agr Allah ki mrzi se ho rahi or wo dawa ni kar rah to bat thik hai,, AGR wo ye boly k Allah ne ijazat dy Di hui hai wali apni mrzi se jab chahy Karamat dikha skty hain To Phir ajj lakho auliya Allah mojood Hain lakh me se 1 karamat to dikha hi skty hain q ni dikha rahy , is ka matlab sab Allah ki marzi se kramat zahr karty hn na k Dawa kar k
2026-09-14 18:44:28
2
Queen~laiba💀👻 :
koi jor nhi 🥰 ap ka
2026-09-14 16:46:35
14
𝙕𝙚𝙚𝙨𝙝𝙖𝙣 𝙎𝙖𝙧𝙛𝙧𝙖𝙯 :
یہ تو ایسے ہے جیسے کوئی کہے قرآن میں شراب کا ذکر آیا ہے لہٰذا شراب بھی جائز ہوگی۔حالانکہ شراب کا قرآن میں ذکر ہونا اس کے جواز کی دلیل نہیں بلکہ قرآن نے اسی کے بارے میں حکم بھی بیان کیا ہے۔بالکل اسی طرح حدیث میں جریجؒ کا واقعہ بیان ہونا اپنی جگہ بالکل صحیح ہے لیکن کسی دوسری جھوٹی یا من گھڑت بات کو صرف اس واقعے کا حوالہ دے کر سچا ثابت نہیں کیا جاسکتا۔کسی چیز کا کتاب و سنت میں ذکر ہونا اور اس کا شرعی طور پر درست یا اپنے دعوے کے لیے دلیل ہونا دو الگ باتیں ہیں۔
2026-09-14 20:07:49
2
🦋🥀mᶤⱥₙÀ𝚛ℎⱥm🥀🦋 :
geo mufti sab 🥀🥀
2026-09-14 17:38:12
13
Ali gujjar :
engineer muhammad ali mirza
2026-09-14 21:33:35
0
Kas :
کا ش ہر صحیح حدیث اسی جزبے سے بیان ہو
2026-09-14 19:48:13
3
꧁𝑺𝑨𝑴𝑰𝑼𝑳𝑳𝑨𝑯 𝑲𝑯𝑨𝑵꧂ :
bhaio thori mahloomat hasil ki kro in ki bato pr yaqeen na Kiya kro sun kr khud mutalah Kiya kro
حدیث صحیح اور ثابت ہے، لیکن اس کا مرکزی سبق سمجھو جریجؒ کی آزمائش ہی اس لیے ہوئی کہ انہوں نے اپنی ماں کی پکار کے مقابلے میں نفلی نماز کو ترجیح دی۔ نبی ﷺ نے اس واقعے کو والدین کے حق اور ان کی پکار کی اہمیت واضح کرنے کے لیے بیان فرمایا۔اب اگر کوئی شخص اپنی جھوٹی یا من گھڑت کہانی کے دفاع میں یہ حدیث پیش کرے تو یہ دلیل نہیں، مغالطہ ہے۔ حدیث میں جریجؒ کا واقعہ ثابت ہونا اس کی اپنی کہانی کو ثابت نہیں کرتا۔مثال کے طور پر حدیث میں یہ واقعہ ثابت ہے کہ جریجؒ کی ماں نے انہیں پکارا اور انہوں نے نفلی نماز جاری رکھی اب اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جھوٹے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے یہی کہے کہ ’’دیکھو، جریجؒ کے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا‘‘ تو اس نے حدیث کا اصل سبق ہی چھوڑ دیا۔ واقعہ کا ثابت ہونا الگ بات ہے، اور اپنے دعوے کا ثابت ہونا الگ۔صحیح حدیث کو اپنے مطلب کے لیے گھسیٹنا دلیل نہیں؛ پہلے حدیث کا اصل مفہوم سمجھو، پھر اسے دلیل بناؤ۔
2026-09-14 20:03:55
2
waqas Maher :
💯💯💯💯
2026-09-14 18:06:35
2
user501258331 :
Jo hadees in k aqad o nazrayat k mukhalif jay uny ingineer or us k dost ni bayan karty
2026-09-14 19:08:06
1
Hashim Sardar Wahga :
2026-09-14 21:16:55
0
Malik official :
2026-09-14 22:44:05
0
ijazahmad2786786 :
2026-09-14 20:52:42
0
JALIL SHAHZAD :
ماشاءاللہ
2026-09-14 22:25:19
0
To see more videos from user @hafizsufyanedits, please go to the Tikwm
homepage.