@selfwriter1725: کتنا مشکل ہوتا ہے اس ہاتھ کو چھوڑنا، جس کو پکڑ کر ساری زندگی جینے کے خواب دیکھے ہوں آپ نے۔ وہ ہاتھ جسے تھامتے ہوئے کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا ہوتا کہ ایک دن یہی ہاتھ آپ کو چھوڑنا پڑے گا، جس کے ساتھ چلتے ہوئے انسان نے نہ جانے کتنے آنے والے سال اپنی آنکھوں میں سجا لیے ہوں، جس کے ساتھ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے لے کر زندگی کی بڑی خواہشوں تک سب کچھ جوڑ دیا ہو۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان کے سامنے وہی ہاتھ ہوتا ہے، مگر اُسے تھامے رکھنے کی وہ پہلے جیسی آسانی نہیں رہتی، اور دل کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ ہر وہ چیز جسے ہم عمر بھر کا سمجھ کر جیتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ ہمارے ہاتھ میں رہے۔ سب سے زیادہ تکلیف شاید ہاتھ چھوڑنے میں نہیں ہوتی، تکلیف تو اس بات کی ہوتی ہے کہ ہاتھ چھوڑتے ہوئے انسان کو اپنے ساتھ جڑے ہوئے کتنے خواب بھی چھوڑنے پڑتے ہیں۔ وہ مستقبل جسے کبھی حقیقت سمجھ کر دیکھا تھا، وہ باتیں جنہیں آنے والے دنوں کے لیے سنبھال کر رکھا تھا، وہ لمحے جن کے بارے میں سوچ کر دل کو سکون ملتا تھا، سب اچانک ایک ایسی یاد بننے لگتے ہیں جسے انسان چاہ کر بھی اپنی زندگی سے نکال نہیں پاتا۔ عجیب بات ہے نا، انسان ایک شخص سے دور ہوتا ہے مگر اُس کے ساتھ اپنی پوری ایک دنیا پیچھے چھوڑ آتا ہے۔ پھر زندگی بظاہر معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے۔ دن گزرتے ہیں، لوگ ملتے ہیں، باتیں ہوتی ہیں، ہنسی بھی آ جاتی ہے، مگر دل کے اندر کہیں ایک جگہ ایسی رہ جاتی ہے جہاں وقت بھی نہیں پہنچ پاتا۔ کبھی کوئی معمولی سی چیز اُس شخص کی یاد دلا دیتی ہے، کبھی کوئی پرانی بات اچانک ذہن میں آ جاتی ہے، اور کبھی بغیر کسی وجہ کے دل بس اتنا سوچ کر خاموش ہو جاتا ہے کہ جس ہاتھ کو کبھی عمر بھر تھامے رکھنے کا خواب دیکھا تھا، آج وہ ہاتھ ہماری زندگی کی سب سے خوبصورت اور سب سے تکلیف دہ یادوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ اور شاید سب سے دردناک حقیقت یہی ہے کہ انسان ہمیشہ اُس شخص کو نہیں روتا جو اُس سے دور ہو گیا؛ کبھی کبھی وہ اُس زندگی کو روتا ہے جو اُس شخص کے ساتھ گزارنے کا خواب دیکھا تھا۔ اُن صبحوں کو جو کبھی آئیں ہی نہیں، اُن شاموں کو جو کبھی ساتھ گزری ہی نہیں، اُن باتوں کو جو مستقبل کے لیے بچا کر رکھی تھیں، اُن وعدوں کو جنہیں وقت نے آزمایا ہی نہیں۔ انسان سوچتا رہتا ہے کہ کاش کچھ لمحے دوبارہ مل جائیں، کاش وہی ہاتھ ایک بار پھر ہاتھ میں آ جائے، کاش دل کو ایک بار پھر وہی یقین محسوس ہو جو کبھی اُس تعلق کی موجودگی سے ہوا کرتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ ہاتھ بہت محبت سے تھامے جاتے ہیں، پھر بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ دل میں بہت گہری جگہ بنا لیتے ہیں، مگر زندگی اُن کے ساتھ ہر خواب مکمل کرنے کا موقع نہیں دیتی۔ اور انسان چاہ کر بھی ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں رکھ سکتا۔ کبھی کبھی سب کچھ بچانے کی خواہش کے باوجود صرف یادیں بچتی ہیں، اور انسان اُن یادوں کے ساتھ جینا سیکھتا ہے جنہیں کبھی وہ اپنی پوری زندگی سمجھ بیٹھا تھا۔ شاید اسی لیے کسی کا ہاتھ چھوڑ دینا صرف ایک لمحے کا فیصلہ نہیں ہوتا؛ اس کے بعد انسان کو اپنے اندر موجود اُس شخص کی جگہ کے ساتھ بھی جینا پڑتا ہے۔ وہ جگہ جو کبھی کسی کے انتظار سے بھری ہوتی ہے، کبھی کسی پرانی بات سے، کبھی خاموشی سے، اور کبھی صرف اُس خیال سے کہ ایک وقت تھا جب یہی دل مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے بالکل مختلف تھا۔ اور پھر ایک دن انسان مسکرانا تو سیکھ لیتا ہے، مگر کچھ یادوں کے سامنے آج بھی اُس کے اندر وہی شخص کھڑا ہوتا ہے جو کبھی اُس ہاتھ کو مضبوطی سے تھام کر سوچا کرتا تھا کہ بس یہی ساتھ کافی ہے، یہی شخص کافی ہے، یہی ہاتھ عمر بھر کے لیے کافی ہے۔ شاید محبت کی سب سے خاموش تکلیف یہی ہے کہ کبھی کبھی انسان کو اُس شخص سے نہیں، بلکہ اُس یقین سے جدا ہونا پڑتا ہے جس کے سہارے اُس نے اپنی آنے والی پوری زندگی دیکھ لی تھی۔ #lines #creatersearchingsight #words #fypp #tiktok