Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@yas__198: وفي قلبي من الهجرانِ سقمٌ وفي كبدي من الأشواقِ داءُ
حُـذَيْـفَـةُ /هـ١٤٢٩
Open In TikTok:
Region: TR
Monday 14 September 2026 18:18:26 GMT
17179
1750
12
186
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.77MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0.77MB
)
Watermark .mp4 (
1.35MB
)
Music .mp3
Comments
•سُجـꫂꫂد :
ماغَاب عَنّي وكُل النّاسِ غائِبَة ٌ مَن يَسكُن القَلب يَبقَى دائِماً فيهِ
2026-09-15 19:40:38
2
حديدي ولهوة قلاب :
يفرجها الله ياخي الله كريم
2026-09-15 18:24:31
1
عٌهّدٍآ وٌثًيَقُآ ♡ :
ممكن العباره
2026-09-16 08:03:52
1
أَبَـا الْـحَـسَـنِ🥷📚 :
تخطه يا أبا حذيفة لا تتعب نفسك على شي فاضي 🙂↔️
2026-09-14 18:22:26
2
أّوٌمً تٌـيِّمً 💚🌿 :
💔💔
2026-09-18 10:53:35
1
☪ :
لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين🌷.
2026-09-15 22:41:55
2
To see more videos from user @yas__198, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Nannare Nannare💃🏻🥳❤️🔥 @LW Dance Gallery #fyp #trendingvideo #dancer #tiktok #searchcreatorinsights
Cẩn thận nha #quanghaycuoi #quanghaycuoi05 #teamphucsyno #thegioididong #hoptaccungthegioididong
#cristianoronaldo #cr7 #عمرو_دياب
#تصميم_فيديوهات🎶🎤🎬 #مالي_خلق_احط_هاشتاقات
Masuk Live Sekarang. Ada harga Promosi..
حبيت أشارككم آية من القرآن تتحدث عن فضل الكلام الطيب، يقول الله تعالى: «ومَن أحسن قولًا مّمن دعا إلى الله وعمل صالحًا وقال إنني من المسلمين» (41:33). دايم أذكّر نفسي وأحب أسمع آيات زي هذي. في ناس تقدر تغير حياتك بكلمة طيبة. شاركوني رأيكم أو آياتكم المفضلة! سورۃ:41--آیت: 33 (آیت 33) ➊ { وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ … :} پچھلی آیات میں ایمان لا کر اس پر استقامت اختیار کرنے والوں کو فرشتوں کے نزول، دنیا و آخرت میں ان کی دوستی، جنت میں داخلے اور غفور و رحیم کی مہمانی کی بشارت دے کر ان کے قلبی سکون و اطمینان اور دلی راحت کا سامان فرمایا، اب ایک ایسے کام کا ذکر فرمایا جو {’’ رَبُّنَا اللّٰهُ ‘‘} کہنے کا فطری تقاضا ہے کہ وہ اس نعمت کو اپنے تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ ان کی کوشش اسے دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچانے کی ہوتی ہے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جو نعمت انھیں عطا ہوئی ہے وہ ہر شخص کو عطا ہو جائے۔ یہ کام سرانجام دیتے ہوئے جب وہ تین باتوں کا اہتمام کریں تو بات میں ان سے بہتر اور درجے میں ان سے بلند کوئی نہیں ہو سکتا۔ پہلی بات {’’ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ ‘‘} یعنی وہ صرف اللہ کی طرف بلائیں۔ نہ اپنی ذات کی طرف، نہ کسی شخصیت کی طرف اور نہ کسی قبیلے، جماعت، نسل یا وطن کی طرف، بلکہ ان کی دعوت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف ہو کہ سب اسی کے بندے اور فرماں بردار بن جاؤ، جیسا کہ فرمایا : « قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [ یوسف : ۱۰۸ ] ’’کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔‘‘ یہ پیغمبروں کا اور ان کے جانشینوں کا کام ہے اور اتنا عظیم کام ہے کہ ان کی دعوت سے جو لوگ راہ ہدایت اختیار کریں گے ان کا اجر ان کے علاوہ انھیں بھی ملے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : [ مَنْ دَعَا إِلٰی هُدًی كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَةٍ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا ] [ مسلم، العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ أو سیئۃ… : ۲۶۷۴ ] ’’جو شخص ہدایت کی کسی بات کی طرف دعوت دے اس کے لیے ان لوگوں کے اجروں جیسا اجر ہو گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں کرے گا اور جو شخص گمراہی کی کسی بات کی طرف دعوت دے اس پر ان لوگوں کے گناہوں جیسا گناہ ہو گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔‘‘ ¤ یہی وجہ ہے کہ پوری امت مل کر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجے کو نہیں پا سکتی، نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بعد آنے والے ان کے درجے تک پہنچ سکتے ہیں، یہی حال بعد میں دعوت الی اللہ دینے والوں کا ہے۔ پھر بات میں ان سے بہتر کون ہو سکتا ہے جسے ان اعمال کا اجر بھی مل رہا ہو جو اس نے نہیں کیے۔ کوئی شخص خود کتنا بھی عمل کر لے یہ مقام کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ ¤ ➋ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت زبان کے ساتھ بھی ہے اور ہاتھ کے ساتھ بھی۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے ساتھ تلوار دے کر بھیجا گیا، آپ کے اصحاب نے آپ کا ساتھ دیا، پھر زبانی دعوت اور جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ اسلام مشرق سے مغرب تک پھیل گیا۔ یہی مناسبت ہے : « هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا » [ الفتح : ۲۸ ] کے بعد : « مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ …» [الفتح : ۲۹ ] میں۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۰۴، ۱۱۰)۔ ¤ ➌ قول میں سب سے بہتر ہونے کے لیے دوسری ضروری بات {’’ وَ عَمِلَ صَالِحًا ‘‘} ہے، یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے کے ساتھ وہ خود بھی عمل صالح کریں۔ صالح عمل کا مطلب یہ ہے کہ وہ خالص اللہ کے لیے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ (دیکھیے سورۂ کہف کی آخری آیت) جو شخص دوسروں کو دعوت دے مگر خود اس کے خلاف عمل کرے اس کے لیے شدید وعید آئی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۴)۔ ¤ ➍ تیسری بات {’’ وَ قَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ ‘‘} یعنی وہ ڈنکے کی چوٹ یہودی، نصرانی، ہندو، سکھ، کمیونسٹ، ڈیموکریٹ اور لبرل وغیرہ ہونے کے بجائے ا۔ #قاری۔سعیدالاسلام #الشيخ_عبدالباسط_عبدالصمد #الشیخ۔عبدالمنعم۔الطوخی #منشاوی_رحمە_اللە #السیدسعید
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy