@rj_typist2: کچھ دن کی بات ہے پھر شاید ہم کبھی اس بھیڑ میں ایک دوسرے کو اجنبیوں کی طرح ملیں گے یا شاید کبھی نہیں... وقت اور فاصلے اتنے سنگین ہو چکے ہیں کہ اب امید کا وہ چھوٹا سا دیا بھی بجھنے لگا ہے جو کبھی کچی سڑکوں پر ہمارے ملنے کا راستہ دکھاتا تھا۔ بات تو صرف اتنی سی ہے کہ جب اپنے راستے بدلنے ہوں، تو پرانے رشتوں کی گہرائی اور پرانی قسموں کا بھرم بھی ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے۔ کل تک جو سانسوں کی طرح لازم اور اس دنیا میں سب سے بڑھ کر تھے، آج ان کے پاس نظریں چرانے کے لیے ہزار بہانے اور نئے چہروں کی چمک ہے۔ اب سمجھ آیا ہے کہ اس دنیا میں چاہنے والوں کی کمی نہیں ہوتی، انسان کی ضرورت بدلتی ہے تو لوگ بھی بدل جاتے ہیں۔ کاش کوئی انہیں سمجھا سکے کہ جب اس دنیا میں کوئی ہاتھ تھامنے والا نہیں تھا، تب ہم ہی وہ واحد سایہ تھے جس پر انہوں نے اپنا سب کچھ وار دیا تھا۔ مگر خیر... وقت کے ساتھ سب بدل گئے، اور اب ہم بھی چپ چاپ اس بھیڑ سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جانے کا ارادہ کر چکے ہیں، تاکہ کسی کو ہماری موجودگی کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے