@rooh.e.qawwali: نہ دنیا کی طلب رہی، نہ زمانے کا خیال رہا، جب تیرا عشق ملا، تو بس تیرا ہی سوال رہا میں خود کو ڈھونڈتا رہا، تیری راہوں کے درمیان، جو خود سے گزر گیا، وہی تیرے وصال میں بحال رہا۔ سجدوں میں جو سکون ملا، وہ کہیں اور نہ ملا، تیرا نام لب پہ آیا تو دل بےمثال رہا۔ میں نے چاہا تجھے، تو نے مجھ کو خود سے ملا دیا، میرا غرور مٹ گیا، فقط تیرا کمال رہا۔ نہ حسن کی خواہش، نہ شہرت کی کوئی آرزو، جس دل میں تُو بس گیا، وہ دل تیرا ہی حال رہا۔ عشق وہ نہیں جو دنیا سے ملنے کی چاہ کرے، عشق وہ ہے جو بندے کو اپنے رب سے ملا کرے۔