اور جہاں تک احادیث مبارکہ میں حلالہ کرنے والے پر لعنت ہونے کا معاملہ ہے، تو اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر عقد نکاح میں حلالہ کی شرط ذکر کی گئی، مثلا یوں کہا کہ: میں نے تجھ سے اس شرط پر نکاح کیا کہ تجھے فلاں کے لیے حلال کردوں۔ یا عورت عقد نکاح میں اس طرح کہے، تو اس صورت میں لعنت والی وعید کا مستحق ہوگا، اور اگر نکاح کرتے ہوئے حلالہ کی شرط نہیں لگائی، صرف دل میں ہی ارادہ ہے، تو اس میں کسی قسم کا حرج اور کوئی گناہ نہیں ہے، اور اس صورت کا زنا سے بھی کوئی تعلق نہیں، لہذا اس صورت میں زنا کی سزا بھی نہیں ملے گی۔
2026-09-15 01:41:14
6
👑عمران خان🦅 :
دوبارہ نکاہ کا کہا گیا ہے حلالا کا نہیں
2026-09-15 02:23:23
1
Naiba faisal :
ager ap is niyat say shadi kren kay ham talaq lay kay wapis shadi krengy tou wo halala jaiz n hota ager wo khud talaq dey ya kisi surat death jojaye tab ap shadi kr sakty wapis
2026-09-15 06:21:59
0
👑قطب شاہی اعوان👑 :
is ma halala kha hai
2026-09-15 02:49:48
0
Muhammad Asad319 :
نکاح اس نیت سے نہ کیا جائے کہ میں نے طلاق دینی ہے
قران اللہ کے نبی پر نازل ہوا اور اس کا ترجمہ تفسیر بھی انہوں نے بتانا ہے
اللہ کے رسول نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی
دوسرے ادمی کا نکاح کے متعلق اگر خدا نہ خواستہ کبھی وہ طلاق دے دے تو پھر پہلے والے کے لیے ٹھیک ہے
اس نیت سے دوسرے بندے کو دے دینی عورت اپنی طلاق دے دے گا یہ حرام ہے یہ حلال نہیں ہے
2026-09-15 01:32:29
1
💔 :
ya HUD ma naw Quran ma para ha
2026-09-15 02:36:11
1
Mohsin Ali :
♥️
2026-09-15 06:58:25
0
siddique ahamad :
Beshak Beshak
2026-09-15 06:45:26
0
Arshad Khan Baloch :
2026-09-15 03:47:11
0
murshad g 456 :
دوسرا شوہر اگر ہمبستری کیے بغیر طلاق دے دے، تو عورت پہلے شوہر پر حلال نہیں ہوتی۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث پاک میں ہے: ”عن عائشۃ ان رجلاً طلّق امراتہ ثلاثاً، فتزوجت فطلق، فسئل النبی صلی اللہ علیہ و سلم اتحل للاول؟ قال: لا، حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الاول“ ترجمہ: حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، پس اس عورت نے دوسری شادی کی، تو اس دوسرے شوہر نے (ہمبستری سے پہلے ) طلاق دے دی۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے پوچھا گیا: کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گئی ہے؟ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی اس کی لذت چکھ لے (یعنی ہمبستری کر لے)، جیسے پہلے شوہر نے چکھی۔(صحیح البخاری، کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث، ج 7، ص43، حدیث 5261، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، مصر)
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے: ”(لا) ینکح (مطلّقۃ بھا) ای بالثلاث (حتی یطاھا غیرہ و لو) الغیر (مراھقاً بنکاح) نافذ (وتمضی عدتہ) ای الثانی، ملخصا“ ترجمہ: ”تین طلاق والی عورت سے شوہر نکاح نہیں کر سکتا ، جب تک کوئی اور اس سے نکاحِ صحیح کے ساتھ ہمبستری نہ کر لے، اگرچہ وہ مراہق ہو اور اس یعنی دوسرے نکاح کی عدت نہ گزر جائے۔(الدر المختار مع رد المحتار، ج 5، ص 43۔ 46، مطبوعہ کوئٹہ)
امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ حلالے کی مکمل تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :”شریعت کا حکم یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دی ہوں، ایک دفعہ میں، خواہ برسوں میں کہ ایک کبھی دی اور رجعت کر لی، پھر دوسری دی اور رجعت کر لی، اب تیسری دی، دونوں صورتوں میں عورت اس پر بغیر حلالہ حرام ہے۔ حلالہ کے معنی یہ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت اگر حیض والی ہے، تو اسے تین حیض شروع ہو کر ختم ہو جائیں اور اگر حیض والی نہیں، مثلا نو برس سے کم عمر کی لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اس طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے، تو بچہ پیدا ہو لے، اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔ اس کے بعد دوسرے شخص سے نکاح بروجہِ صحیح کرے یعنی وہ شوہرِ ثانی اس کا کفو ہو کہ مذہب، نسب، چال چلن، پیشہ کسی میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے اس عورت کا نکاح عورت کے اولیاء کے لیے باعثِ بدنامی ہو یا اگر ایسا کم ہے، تو عورت کا ولی نکاح ہونے سے پہلے اس کو یہ جان کر کہ یہ کفو نہیں ہے، اس کے ساتھ نکاح کی بالتصریح اجازت دے دے یا یہ ہو کہ عورت بالغہ کا کوئی ولی ہی نہ ہو، تو عورت کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح
2026-09-15 01:49:42
0
khalidAli🇵🇰🇵🇰🕋 salaam wal :
یہاں تم لوگوں کا جھوٹ لکھا ہوا ہے اگر پہلا مرد طلاق دے بھی دے تینوں جو ہو سکتا ہے ہو سکتا ہے اگر عورت چاہتی ہے تو پہلے
2026-09-15 01:57:41
0
ҚнΛЛ らЦþþØŤƐ尺 :
غلط ترجمہ کیا جا رہا ہے یا غلط سمجھا جارہا ہے حلالہ ایک غلط چیز ہے اور نا ہی اسکو عقل مانتی ہے جب پہلے سے ہی طے کر لیا جاۓ کہ مرد عورت کو طلاق دے گا تو یہ کیسی شادی ہوگی سادہ سی بات ہے اگر ایک مرد نے ایک عورت کو طلاق دی ہے مطلب نکاح ٹوٹ گیا اگر وہ دوبارہ اس سے نکاح کر لیتا ہے تو بات ختم یہ حلالہ جیسی حرام چیز کس نے پیدا کردی