@dil_e_wiran: اب کھونے کو رکھا ہی کیا ہے، سو اب کسی شے کی حفاظت کا ہنر بھی بے معنی لگتا ہے۔ جن چیزوں کو عمر بھر اپنی سمجھ کر سینے میں جگہ دی، وقت نے ایک ایک کرکے اُن کی حقیقت آشکار کر دی؛ اور جو باقی بچا، وہ محض ایک ذات تھی، تھکی ہوئی، خاموش اور اپنے ہی ملبے تلے دبی ہوئی۔ اب آخری بازی کسی شخص، کسی تعلق یا کسی خواہش کے نام نہیں؛ اب خود کو ہی داؤ پر رکھنا ہے۔ اپنی عادتوں کے خلاف، اپنی کمزوریوں کے خلاف، اُن تمام اندیشوں کے خلاف جنہوں نے مدتوں قدم روکے رکھے۔ شاید اس بار قسمت سے کچھ مانگنے کے بجائے اپنی ہی ذات کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے؛ دیکھنا ہے کہ جس شخص نے ہر شکست کے بعد خود کو سمیٹ لیا، اُس کے اندر ابھی کتنا آدمی باقی ہے۔ اب جو کچھ ہوگا، وہ ادھوری خواہشوں کا ماتم نہیں ہوگا؛ یہ فیصلہ ہوگا کہ انسان اپنی محرومیوں کا وارث بن کر زندہ رہتا ہے یا اُنہی محرومیوں کو اپنی تقدیر کا آخری باب بنا دیتا ہے۔ اب مہرہ بھی میں ہوں، بساط بھی میری ہے، اور آخری داؤ بھی میری ہی ذات کا ہے۔