@ramitbudhaxettri4:

ramitbudhaxettri
ramitbudhaxettri
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 15 September 2026 02:19:26 GMT
110
1
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @ramitbudhaxettri4, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#viralpoetry🥀🥺  ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️ #MirzaGhalib #fyp✨️🙌  🕊🕊🕊🍂🥀🥀🥀 #deeplinespeotry🥀  ​📜 شعر: ​
#viralpoetry🥀🥺 ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️ #MirzaGhalib #fyp✨️🙌 🕊🕊🕊🍂🥀🥀🥀 #deeplinespeotry🥀 ​📜 شعر: ​"عشق بھی کرتے ہو اور سکون بھی چاہتے ہو غالبؔ بڑے نادان ہو زہر بھی پی لیا اور جینا بھی چاہتے ہو" ​🌷 تشریح: ​اس خوبصورت شعر میں شاعر نے انسانی فطرت کے ایک بڑے تضاد کی نشاندہی کی ہے۔ شعر کا پہلا مصرعہ انسان سے مخاطب ہے کہ تم عشق جیسی طوفانی اور بے چین کر دینے والی کیفیت میں مبتلا ہو، اور پھر بھی دل کے سکون اور چین کی امید رکھتے ہو؟ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں ہیں۔ ​شعر کے دوسرے حصے میں شاعر نے عشق کو "زہر" سے تشبیہ دی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ عشق کرنا ایسا ہی ہے جیسے جان بوجھ کر زہر کا پیالہ پی لینا۔ اب جب تم نے خود ہی زہر پی لیا ہے، تو پھر زندگی اور سلامتی کی دعا مانگنا نادانی اور بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر تمہیں زندگی پیاری تھی، تو زہر کیوں پیا؟ اور اگر زہر پی لیا ہے، تو موت کے لیے تیار رہو۔ ​💬 تفصیل: ​غالب نے اس شعر میں عشق کے راستے کی صعوبتوں اور اس کے نتیجے میں ملنے والی بے چینی کو بہت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک عشق کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کے آرام، سکون اور بسا اوقات جان کو بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ ​انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے عشق کی خوشیاں اور لذتیں ملیں، لیکن وہ اس کے ساتھ آنے والے درد، تکلیف، اور بے قراری سے بچنا چاہتا ہے۔ غالب اس رویے کو "نادانی" قرار دیتے ہیں۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ اگر آپ عشق کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو آپ کو اس کے تمام نتائج، چاہے وہ کتن

About