@adnanzakir44: عثمان غازی کی غمگین اور خوبصورت شاعری ۔۔۔۔۔میں بے وفائی سے اس سے بچانا چاہتا تھا اسی لیے تو اسے چھوڑو جانا چاہتا تھا یہاں خوشی نہیں خوشحالی کھینچ لائے مجھے میں اپنے گاؤں میں رہ کر کا معنی چاہتا تھا میں اس کے شہر میں بالکل نیا نیا تھا اور یوں ملا مجھے جیسے بلانا چاہتا تھا او میری نیند سے جانے کدھر نکل گیا ہے خواب اسے بھی دکھانا چاہتا تھا اسی درخت کے سائے میں تک کے بیٹھ گیا اسی درخت کے سائے میں تک کے بیٹھ گیا میں جسم کاٹ کر کرسی بنانا چاہتا تھا