@mak.beaty3: To my super amazing younger brother, the one who always keeps me on my toes. Happy birthday. I can’t wait to see what you do next in this phase. I wish you the best life’s got to offer. ❤️🥰💐🌹#500views #goviraltiktok #fybシviral

mak beaty 😘
mak beaty 😘
Open In TikTok:
Region: NG
Tuesday 15 September 2026 06:53:53 GMT
79
4
2
0

Music

Download

Comments

tokabfashion_
Tokabfashion store :
Happy Birthday to you, I pray for longlife, prosperity and good health for you.
2026-09-15 08:22:51
0
To see more videos from user @mak.beaty3, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پاکستان سے ایران کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والے زائرین کا سفر محض ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا سفر نہیں ہوتا، بلکہ یہ عقیدت، صبر اور برداشت کا ایک طویل امتحان بھی بن جاتا ہے۔ بالخصوص پاکستان ایران سرحد کے راستے سفر کرنے والے بہت سے زائرین کے لیے یہ مرحلہ جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی دشوار ثابت ہوتا ہے۔ زائرین اپنے دلوں میں امام رضا علیہ السلام، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی آرزو لیے سینکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے سرحد تک پہنچتے ہیں۔ ان میں بزرگ، خواتین، بچے اور ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو محدود وسائل کے باوجود صرف محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام میں یہ طویل سفر اختیار کرتے ہیں۔ مگر سرحد تک پہنچنے کے بعد ان کے لیے انتظار اور مختلف انتظامی و سکیورٹی مراحل ایک بڑی آزمائش بن سکتے ہیں۔ طویل انتظار، بار بار دستاویزات کی جانچ، سفری قافلوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں، بنیادی سہولیات کی کمی اور بعض اوقات غیر واضح طریقۂ کار زائرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ شدید گرمی، تھکن اور طویل سفر کے بعد اگر ایک زائر کو گھنٹوں یا اس سے بھی زیادہ وقت انتظار کرنا پڑے تو یہ تکلیف صرف جسم تک محدود نہیں رہتی۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ زائر وہاں کسی تفریح یا دنیاوی مقصد کے لیے نہیں پہنچا ہوتا۔ اس کے سامان میں چند کپڑے ہوتے ہیں، ہاتھ میں پاسپورٹ ہوتا ہے اور دل میں صرف یہ خواہش کہ کسی طرح سرحد پار ہو اور اس سرزمین تک پہنچ جائے جہاں اس کے مقدسات موجود ہیں۔ یقیناً ریاست کے لیے سرحدی سکیورٹی، امیگریشن اور قانونی تقاضے ناگزیر ہیں، اور ہر مسافر کو مقررہ قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ لیکن سکیورٹی اور انسانی سہولت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ مؤثر نگرانی کے ساتھ زائرین کے لیے باعزت، منظم اور واضح طریقۂ کار بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ بزرگوں، خواتین اور بچوں کے لیے مناسب انتظار گاہیں، پینے کا صاف پانی، بیت الخلا، طبی امداد، واضح رہنمائی اور امیگریشن کے تیز اور منظم مراحل بنیادی ضروریات ہیں، کوئی غیر معمولی رعایت نہیں۔ ایک زائر جب پاکستان کی سرحد سے ایران کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اس کے پیچھے سفر کی تھکن اور مشکلات کی ایک پوری داستان ہوتی ہے، لیکن سامنے زیارت کی امید ہوتی ہے۔ یہی امید اسے گرمی، انتظار، تھکن اور راستے کی سختیاں برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اور شاید اس پورے سفر کا سب سے گہرا منظر وہ ہوتا ہے جب تمام رکاوٹوں اور انتظار کے بعد زائر بالآخر سرحد عبور کرتا ہے۔ تھکے ہوئے چہرے پر اطمینان آتا ہے، قدموں میں پھر سے طاقت محسوس ہوتی ہے اور دل میں منزل قریب ہونے کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ابھی مشہد، قم اور دوسرے مقدس مقامات تک بہت سا راستہ باقی ہے، مگر دل جیسے پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہوتا ہے۔ راہِ زیارت کی سختیاں قدموں کو تھکا سکتی ہیں، مگر جس دل میں شوقِ زیارت زندہ ہو، اسے منزل کی امید آگے بڑھاتی رہتی ہے
پاکستان سے ایران کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والے زائرین کا سفر محض ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا سفر نہیں ہوتا، بلکہ یہ عقیدت، صبر اور برداشت کا ایک طویل امتحان بھی بن جاتا ہے۔ بالخصوص پاکستان ایران سرحد کے راستے سفر کرنے والے بہت سے زائرین کے لیے یہ مرحلہ جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی دشوار ثابت ہوتا ہے۔ زائرین اپنے دلوں میں امام رضا علیہ السلام، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی آرزو لیے سینکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے سرحد تک پہنچتے ہیں۔ ان میں بزرگ، خواتین، بچے اور ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو محدود وسائل کے باوجود صرف محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام میں یہ طویل سفر اختیار کرتے ہیں۔ مگر سرحد تک پہنچنے کے بعد ان کے لیے انتظار اور مختلف انتظامی و سکیورٹی مراحل ایک بڑی آزمائش بن سکتے ہیں۔ طویل انتظار، بار بار دستاویزات کی جانچ، سفری قافلوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں، بنیادی سہولیات کی کمی اور بعض اوقات غیر واضح طریقۂ کار زائرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ شدید گرمی، تھکن اور طویل سفر کے بعد اگر ایک زائر کو گھنٹوں یا اس سے بھی زیادہ وقت انتظار کرنا پڑے تو یہ تکلیف صرف جسم تک محدود نہیں رہتی۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ زائر وہاں کسی تفریح یا دنیاوی مقصد کے لیے نہیں پہنچا ہوتا۔ اس کے سامان میں چند کپڑے ہوتے ہیں، ہاتھ میں پاسپورٹ ہوتا ہے اور دل میں صرف یہ خواہش کہ کسی طرح سرحد پار ہو اور اس سرزمین تک پہنچ جائے جہاں اس کے مقدسات موجود ہیں۔ یقیناً ریاست کے لیے سرحدی سکیورٹی، امیگریشن اور قانونی تقاضے ناگزیر ہیں، اور ہر مسافر کو مقررہ قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ لیکن سکیورٹی اور انسانی سہولت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ مؤثر نگرانی کے ساتھ زائرین کے لیے باعزت، منظم اور واضح طریقۂ کار بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ بزرگوں، خواتین اور بچوں کے لیے مناسب انتظار گاہیں، پینے کا صاف پانی، بیت الخلا، طبی امداد، واضح رہنمائی اور امیگریشن کے تیز اور منظم مراحل بنیادی ضروریات ہیں، کوئی غیر معمولی رعایت نہیں۔ ایک زائر جب پاکستان کی سرحد سے ایران کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اس کے پیچھے سفر کی تھکن اور مشکلات کی ایک پوری داستان ہوتی ہے، لیکن سامنے زیارت کی امید ہوتی ہے۔ یہی امید اسے گرمی، انتظار، تھکن اور راستے کی سختیاں برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اور شاید اس پورے سفر کا سب سے گہرا منظر وہ ہوتا ہے جب تمام رکاوٹوں اور انتظار کے بعد زائر بالآخر سرحد عبور کرتا ہے۔ تھکے ہوئے چہرے پر اطمینان آتا ہے، قدموں میں پھر سے طاقت محسوس ہوتی ہے اور دل میں منزل قریب ہونے کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ابھی مشہد، قم اور دوسرے مقدس مقامات تک بہت سا راستہ باقی ہے، مگر دل جیسے پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہوتا ہے۔ راہِ زیارت کی سختیاں قدموں کو تھکا سکتی ہیں، مگر جس دل میں شوقِ زیارت زندہ ہو، اسے منزل کی امید آگے بڑھاتی رہتی ہے

About