@qureshidx5: ہے طرفہ تماشا سرِ بازارِ محبت سر بیچتے پھرتے ہیں خریدارِ محبت اللہ کرے تو بھی ہو بیمارِ محبت صدقے میں چھٹیں تیرے گرفتارِ محبت ابرو سے چلے تیغ تو مژگاں سے چلے تیر تعزیز کے بھوکے ہیں خطا وارِ محبت اس واسطے دیتے ہیں وہ ہر روز نیا داغ اک درد کے خوگر نہ ہوں بیمارِ محبت ہے گورِِ الٰہی قفسِ تنگ سے کیا کم مر کر بھی تو چھوٹے نہ گرفتارِ محبت کچھ تذکرۃِ عشق رہے حضرتِ ناصح کانوں کو مزہ دیتی ہے گفتارِ محبت دل بھول نہ جائے کسی مژگاں کی کھٹک کو کچھ چھیڑ رہے اے خلشِ خارِ محبت جو چارہ گر آیا مری بالیں پہ یہ بولا اللہ کو سونپا تجھے بیمارِ محبت ثابت قدم ایسی رہِ اُلفت میں نہ ہوں گے تھا ہم کو تہِ تیغ بھی اقرارِ محبت واعظ کی زباں پر تو وہ کلمے ہیں گویا بخشے ہی نہ جائیں گے گنہگار محبت دیکھا ہے زمانے کو ان آنکھوں نے تو اے داغؔ اس رنگ پر اس ڈھنگ پر انکارِ محبت!!