@_laghari_writes_: وقت کی ٹھوکریں انسان کو وہ ہنر سکھاتی ہیں جو کتابیں بھی نہیں سکھا سکتیں۔ پاؤں کو لگنے والی ٹھوکر انسان کو سنبھل کر چلنا سکھاتی ہے، مگر دل کو لگنے والی ٹھوکر انسان کو صرف چلنا نہیں، جینا سکھاتی ہے۔ زندگی میں کچھ سبق الفاظ سے نہیں ملتے۔ انہیں محسوس کرنا پڑتا ہے، انہیں سہنا پڑتا ہے، اور پھر انسان خود سمجھتا ہے کہ دنیا حقیقت میں کیسی ہے۔ کبھی کسی پر حد سے زیادہ اعتبار کرنے کی ٹھوکر لگتی ہے، تو انسان اعتبار ختم نہیں کرتا، بس یہ سیکھ لیتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی زندگی میں ایک جیسی جگہ نہیں دینی چاہیے۔ کبھی کسی کے بدل جانے کی ٹھوکر لگتی ہے، تو انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہر ساتھ ہمیشہ کا وعدہ نہیں ہوتا۔ کبھی اپنی ہی توقعات انسان کو گرا دیتی ہیں، اور پھر وہ سیکھتا ہے کہ سکون ہمیشہ دوسروں کے رویوں سے نہیں، اپنی توقعات کو سمجھنے سے بھی ملتا ہے۔ وقت کی سختیاں انسان کو یہ بھی بتاتی ہیں کہ ہر مشکل سزا نہیں ہوتی، کچھ مشکلات تربیت ہوتی ہیں۔ جو شخص کبھی آسانی سے ٹوٹ جاتا تھا، وہی وقت گزرنے کے بعد مشکل حالات میں خود کو سنبھالنا سیکھ لیتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان ہر تکلیف پر شور نہیں کرتا، ہر دھوکے پر وضاحت نہیں مانگتا، ہر جدائی کے پیچھے نہیں بھاگتا، اور ہر بند دروازے کو کھولنے کی کوشش نہیں کرتا۔ کیونکہ وقت اسے سمجھا چکا ہوتا ہے کہ ہر ٹھوکر کا مقصد گرانا نہیں ہوتا، کچھ ٹھوکریں راستہ درست کرنے آتی ہیں۔ پاؤں کی ٹھوکر چند قدموں کو روک سکتی ہے، مگر دل کی ٹھوکر انسان کی پوری سوچ بدل سکتی ہے۔ اسی لیے مشکل وقت سے صرف شکایت نہ کرو؛ یہ بھی دیکھو کہ وہ تمہیں کیا سکھا رہا ہے۔ آخر میں بات سیدھی ہے... وقت کی ہر ٹھوکر کو بدقسمتی سمجھنے والے صرف گرتے ہیں، اور اُس سے سبق سیکھنے والے وہیں سے بہتر چلنا سیکھ جاتے ہیں۔#faryou #faryoupage #faryoupage #fyp u