@zanura.yomal.tharaka: #bmw #bmwlove #loyal #wife #viral

සනුර / Zanura / சனுர 🩸⛓️
සනුර / Zanura / சனுர 🩸⛓️
Open In TikTok:
Region: LK
Tuesday 15 September 2026 15:11:27 GMT
18182
2861
24
276

Music

Download

Comments

kaveesharavishan60
𝙠𝙖𝙫𝙚𝙚𝙨𝙝𝙖 🙌 :
True 🫶🫂
2026-09-16 01:51:29
1
tharux.__7
T H A R U __🧸 :
Atta 🥹
2026-09-16 04:59:50
0
0012sandaruwan
𝙏𝙝𝙖𝙧𝙪 ᶻˣᶠ¹⁰ᵛˣ :
2026-09-16 03:26:06
1
babizz_qtz
𝓑𝓪𝓫𝓲𝔃𝔃.𝓵𝓴 ❗️🫀 :
Post ek denwko
2026-09-15 18:03:42
1
_viden_run_
Vihanga d gamage :
When we’re owner of a german princess we can find a loyal women 💯 😂
2026-09-16 05:43:24
0
red_law_
Red_Law_ :
❤️
2026-09-16 04:11:01
1
justsadewlk
Sadewzz ! ⭐🇧🇷 :
🤍
2026-09-16 03:24:11
1
ishandushmitha
"𝙞𝙨𝙝𝙖𝙣 𝙤𝙛𝙛𝙘𝙞𝙖𝙡" :
@k 💋
2026-09-16 05:03:58
0
chandi_737
chandi_737 :
@𝓞𝓶𝓪𝔂𝓪 🍉. 🥺💋
2026-09-16 04:45:42
0
aloka_18
𝔸𝕝𝕠𝕜𝕒 🐉⚡️🖤 :
@Lunara sandu ☽♡➶ 🥺⚡️
2026-09-16 05:08:51
0
rupasinghehardwear
Rupasinghe :
❤️
2026-09-16 04:35:24
0
sudam_boi
Sudam Perera :
@sanchi@ [Red heart][Kiss drop]
2026-09-16 05:28:36
0
To see more videos from user @zanura.yomal.tharaka, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

35 سال کویت اور سعودی عرب میں کمائی کرنے والے لاہوریے کی کہانی : جو واپس آیا تو ائیرپورٹ سے سیدھا اولڈ ہوم جانا پڑ گیا ۔۔۔۔ محمد نواز فریج اے سی ریپیئرنگ کا کام کرتے تھے 10 سال کویت میں کام کیا گھر کو خوشحال کیا جو کماتے اپنے خرچہ رکھ کر بقایا بیوی کو بھیج دیتے ، بیوی بچوں کی ہر خواہش فرمائش پوری کی ، کوٹھی نما گھر ، گاڑی ، جدید موبائل ، بچوں کے لیے لیپ ٹاپس ، گھر میں ضرورت اور آسائش کی ہر چیز مہیا کی لیکن غربت سے امارت کا سفر شاید بیوی کو راس نہ آیا ۔ اسکی ایک ہی ضد تھی ، کیا ضرورت ہے واپس آنے کی وہیں رہو اور کمائی کرو ۔۔۔ کویت میں 10 سال گزار کر واپس آئے تو   بیٹی اور بیٹا 5، 7 سال کے تھے یہاں لاہور میں اپنی شاپ بنائی اور زندگی  کی گاڑی کو دھکا دینے کی کوشش کی لیکن کام نہ چلا تو سال دو سال بعد ویزہ لگوا کر سعودی عرب چلے گئے ، ابتدا میں وہاں بہت مشکل دن دیکھے کفیل والے نظام نے انہیں بڑا خجل خراب کیا لیکن پھر کاغذات مکمل کرکے کمائی کرنے لگے ، 20 سے 22 سال یہاں کام کیا اس دوران گھر کے صرف 3، یا چار چکر لگائے ، اس سارے دورانیے میں دولت تو کمائی لیکن خاندان برباد کر لیا ، انکی بیوی صرف پیسے کی پجارن بن گئی ، بچے ظاہر ہے ماں کے ساتھ رہے تو ماں کی زبان بولتے تھے ۔ پیسہ پیسہ پیسہ ، بیوی کی زبان پر ایک یہی لفظ رہتا ، پوری برادری میں جو چیز ہماری ہو اس جیسی کسی اور کے پاس نہ ہو ، کم ظرف عورت نے محمد نواز کو پیسے کمانے والی مشین سمجھ لیا ۔ آج سے لگ بھگ ایک سال قبل جھگڑا شروع ہوا جب محمدنواز نے طے کر لیا کہ اب صحت اجازت نہیں دیتی بہت کما لیا باقی زندگی بیوی بچوں کے پاس گزاریں گے ۔ لیکن بیوی ڈٹ گئی ، صاف کہہ دیا ، کوئی ضرورت نہیں گھر آنے کی ، اچھی خاصی کمائی کررہے ہو اس ملک میں کیا رکھا ہے ۔ اگر پھر بھی واپس آؤ تو اپنا بندوبست خود کرنا اس گھر کے دروازے تمہارے اوپر بند ہیں ۔ محمد نواز نے اپنی بیوی کے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بات کی ، انہوں نے انصاف سے کام لیا اور اپنی بہن بیٹی کو غلط کہا لیکن وہ دشمنی پر آگئی ، کہ میرا گھر ہے جو مرضی کروں ، میرے بہن بھائی کون ہوتے ہیں مجھے غلط کہنے والے ۔۔۔ پھر ایک روز محمد نواز لاہور ائیر پورٹ پر اترے تو بیوی ، بیٹی یا بیٹا لینے بھی نہ آئے ، ایک بھتیجا ائیرپورٹ پر لینے آیا ، گھر والوں نے صاف انکار کردیا اسے جدھر مرضی لے جاؤ ہمارے گھر نہ لانا اور بھتیجا محمد نواز کو ائیرپورٹ سے اپنے گھر لے گیا ۔غنیمت یہ کہ چند لاکھ روپے محمد نواز کے پاس تھے انہوں نے خورشید اولڈ ہوم سے رابطہ کیا کہ بیمار ضرور ہوں مگر بیکار نہیں ہوں مجھے رہنے کے لیے چھت اور دو وقت کی روٹی دے دیں آپ کے بہت کام آؤنگا ۔۔۔۔ آج پچھلے 3 ماہ سے محمد نواز خورشید اولڈ ہوم میں رہ رہے ہیں، رضارانہ طور پر یہاں کام بھی کرتے ہیں  ، رشتہ دار بیوی کو قائل کرنے میں ناکام ہیں ۔ بیوی نہیں ہے گویا دشمن ہے اور بچے ناگن کے بچے ہیں ، محمد نواز اپنے جیسے لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ بیوی بچوں کو ضرور پالیں انہیں گھر سہولیات اور آسائشیں سب کچھ دیں لیکن خدارا کچھ اپنے لیے بچا کر رکھیں ، بڑھاپے اور بیماری میں رشتوں کی اصلیت معلوم ہوتی ہے اور آج سب سے بڑا رشتہ دار اور دوست پیسہ ہی ہے ۔۔۔۔
35 سال کویت اور سعودی عرب میں کمائی کرنے والے لاہوریے کی کہانی : جو واپس آیا تو ائیرپورٹ سے سیدھا اولڈ ہوم جانا پڑ گیا ۔۔۔۔ محمد نواز فریج اے سی ریپیئرنگ کا کام کرتے تھے 10 سال کویت میں کام کیا گھر کو خوشحال کیا جو کماتے اپنے خرچہ رکھ کر بقایا بیوی کو بھیج دیتے ، بیوی بچوں کی ہر خواہش فرمائش پوری کی ، کوٹھی نما گھر ، گاڑی ، جدید موبائل ، بچوں کے لیے لیپ ٹاپس ، گھر میں ضرورت اور آسائش کی ہر چیز مہیا کی لیکن غربت سے امارت کا سفر شاید بیوی کو راس نہ آیا ۔ اسکی ایک ہی ضد تھی ، کیا ضرورت ہے واپس آنے کی وہیں رہو اور کمائی کرو ۔۔۔ کویت میں 10 سال گزار کر واپس آئے تو بیٹی اور بیٹا 5، 7 سال کے تھے یہاں لاہور میں اپنی شاپ بنائی اور زندگی کی گاڑی کو دھکا دینے کی کوشش کی لیکن کام نہ چلا تو سال دو سال بعد ویزہ لگوا کر سعودی عرب چلے گئے ، ابتدا میں وہاں بہت مشکل دن دیکھے کفیل والے نظام نے انہیں بڑا خجل خراب کیا لیکن پھر کاغذات مکمل کرکے کمائی کرنے لگے ، 20 سے 22 سال یہاں کام کیا اس دوران گھر کے صرف 3، یا چار چکر لگائے ، اس سارے دورانیے میں دولت تو کمائی لیکن خاندان برباد کر لیا ، انکی بیوی صرف پیسے کی پجارن بن گئی ، بچے ظاہر ہے ماں کے ساتھ رہے تو ماں کی زبان بولتے تھے ۔ پیسہ پیسہ پیسہ ، بیوی کی زبان پر ایک یہی لفظ رہتا ، پوری برادری میں جو چیز ہماری ہو اس جیسی کسی اور کے پاس نہ ہو ، کم ظرف عورت نے محمد نواز کو پیسے کمانے والی مشین سمجھ لیا ۔ آج سے لگ بھگ ایک سال قبل جھگڑا شروع ہوا جب محمدنواز نے طے کر لیا کہ اب صحت اجازت نہیں دیتی بہت کما لیا باقی زندگی بیوی بچوں کے پاس گزاریں گے ۔ لیکن بیوی ڈٹ گئی ، صاف کہہ دیا ، کوئی ضرورت نہیں گھر آنے کی ، اچھی خاصی کمائی کررہے ہو اس ملک میں کیا رکھا ہے ۔ اگر پھر بھی واپس آؤ تو اپنا بندوبست خود کرنا اس گھر کے دروازے تمہارے اوپر بند ہیں ۔ محمد نواز نے اپنی بیوی کے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بات کی ، انہوں نے انصاف سے کام لیا اور اپنی بہن بیٹی کو غلط کہا لیکن وہ دشمنی پر آگئی ، کہ میرا گھر ہے جو مرضی کروں ، میرے بہن بھائی کون ہوتے ہیں مجھے غلط کہنے والے ۔۔۔ پھر ایک روز محمد نواز لاہور ائیر پورٹ پر اترے تو بیوی ، بیٹی یا بیٹا لینے بھی نہ آئے ، ایک بھتیجا ائیرپورٹ پر لینے آیا ، گھر والوں نے صاف انکار کردیا اسے جدھر مرضی لے جاؤ ہمارے گھر نہ لانا اور بھتیجا محمد نواز کو ائیرپورٹ سے اپنے گھر لے گیا ۔غنیمت یہ کہ چند لاکھ روپے محمد نواز کے پاس تھے انہوں نے خورشید اولڈ ہوم سے رابطہ کیا کہ بیمار ضرور ہوں مگر بیکار نہیں ہوں مجھے رہنے کے لیے چھت اور دو وقت کی روٹی دے دیں آپ کے بہت کام آؤنگا ۔۔۔۔ آج پچھلے 3 ماہ سے محمد نواز خورشید اولڈ ہوم میں رہ رہے ہیں، رضارانہ طور پر یہاں کام بھی کرتے ہیں ، رشتہ دار بیوی کو قائل کرنے میں ناکام ہیں ۔ بیوی نہیں ہے گویا دشمن ہے اور بچے ناگن کے بچے ہیں ، محمد نواز اپنے جیسے لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ بیوی بچوں کو ضرور پالیں انہیں گھر سہولیات اور آسائشیں سب کچھ دیں لیکن خدارا کچھ اپنے لیے بچا کر رکھیں ، بڑھاپے اور بیماری میں رشتوں کی اصلیت معلوم ہوتی ہے اور آج سب سے بڑا رشتہ دار اور دوست پیسہ ہی ہے ۔۔۔۔

About