@bajwa99.1: اس قول میں والدین کی حقیقی حیثیت اور اولاد کی ایک بڑی بھول کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ آج کی دنیا میں اکثر لوگ والدین کو محض ایک زینہ یا سیڑھی سمجھ لیتے ہیں، جس کی مدد سے وہ تعلیم معاشی مستحکم پوزیشن اور کامیابی کے بلند مقام تک پہنچتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی انسان اوپر پہنچ جاتا ہے، وہ اس سیڑھی کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور آگے نکل جاتا ہے۔ یہ رویہ والدین کی قربانیوں کی شدید توہین ہے۔ والدین کوئی بے جان سیڑھی نہیں بلکہ ایک ایسا تحفظ اور ڈھال ہیں جو بچوں کو زندگی کی گرم ہواؤں، سخت حالات اور مشکلات سے بچانے کے لیے خود کو آگے کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات اور آرام قربان کر کے بچوں کا سایہ بنتے ہیں۔ جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں اور شاید وہ مزید آپ کو معاشی یا مادی فائدہ (پھل) نہ دے سکیں، تب بھی ان کا وجود ان کی دعائیں اور ان کی موجودگی گھر کے لیے ایک ٹھنڈا سایہ ہوتی ہے۔ وہ ایسا تناور درخت ہیں جس کی جڑیں آپ کی کامیابی کی اصل وجہ ہوتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر اولاد کو اس سائے کی قدر تب ہوتی ہے جب وہ درخت کٹ جاتا ہے یا ڈھل جاتا ہے۔ وقت رہتے والدین کی موجودگی کو نعمت سمجھنا، ان کا احترام کرنا اور ان کے سائے میں بیٹھ کر ان کا شکریہ ادا کرنا ہی سچی اولاد کا ظرف ہے۔ #foryou #foryoupage #foryoupageofficiall #viralvideo #urduqoutesstatus