@silentstrength9661: میں نے خود کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہے۔ کسی نے مجھے نہیں جلایا، میں خود جلی ہوں۔ کسی کی بے رخی پر، کسی کے چھوڑ جانے پر، میں نے چِلّا چِلّا کر خود کو ختم کیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں میں زندہ ہوں، میں زندہ نہیں ہوں۔ یہ جو چل رہی ہوں، یہ جو ہنس رہی ہوں، یہ صرف ایک لاش ہے جو سانس لے رہی ہے۔ اندر تو سب جل چکا ہے۔ میرا دل، میری ہنسی، میرے خواب، میری محبت... سب راکھ کہ اداسی تو اب میرا مذہب بن چکی ہے۔ زندگی جیسی جلانی تھی، جلا بیٹھی ہوں۔ اب اگر میری آنکھوں سے دھواں نکلے تو آنکھیں مت پھیرو، اور اگر میرے لفظوں میں راکھ ہو تو مجھ سے نفرت مت کرنا۔ کیونکہ اب میرے پاس راکھ کے سوا کچھ بھی نہیں بچا۔