@kiran_wriite: caption تعلق ختم کرنے کا اختیار تھا اسے، مگر جو وہ بنا رہا تھا، وہ بہانے عجیب تھے۔ اگر دل اُکتا گیا تھا تو کہہ دیتا، اگر محبت باقی نہیں رہی تھی تو صاف انکار کر دیتا، اگر میری موجودگی اسے بوجھ لگنے لگی تھی تو ایک لفظ میں مجھے آزاد کر دیتا، مگر اس نے سچ بولنے کے بجائے ایسی کہانیاں تراشیں جن میں ہر بار قصور کہیں نہ کہیں میرا ہی نکلتا تھا۔ کبھی مصروفیت کا بہانہ، کبھی حالات کا، کبھی وقت کا، کبھی خاموشی کو مجبوری کا نام دے کر وہ میرے سوالوں سے بچتا رہا۔ میں ہر بار اس کے ایک چھوٹے سے جواب کو امید سمجھ کر بیٹھ جاتی اور وہ ہر بار اسی امید کو ایک نئے بہانے کے نیچے دفن کر دیتا۔ عجیب بات یہ تھی کہ میں اس سے تعلق ختم ہونے کا شکوہ نہیں کرتی تھی، مجھے شکوہ اس بات کا تھا کہ جس شخص کو کبھی میرے آنسوؤں کی نمی تک محسوس ہوتی تھی، وہی شخص مجھے توڑنے کے لیے اتنی بے رحمی سے لفظ ڈھونڈنے لگا تھا۔ وہ چاہتا تو مجھے ایک سچ دے کر چلا جاتا، میں رو لیتی، ٹوٹ جاتی، شاید کچھ وقت کے بعد سنبھل بھی جاتی، مگر اس نے مجھے ایک واضح جدائی نہیں دی؛ اس نے مجھے روز تھوڑا تھوڑا چھوڑا۔ پہلے باتیں کم کیں، پھر لہجہ بدل دیا، پھر میری اہمیت کم کی، پھر میری موجودگی سے بے نیاز ہوا، اور آخر میں یوں چلا گیا جیسے کبھی میرے ساتھ کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ میں مدتوں اس کے بہانوں میں چھپی ہوئی کوئی ایسی وجہ تلاش کرتی رہی جسے جان کر شاید اپنے دل کو مطمئن کر سکوں، مگر آخر سمجھ آیا کہ بعض لوگ رشتہ ختم کرنے کے لیے وجہ نہیں ڈھونڈتے، بس اپنی بے وفائی کو قابلِ قبول بنانے کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی نہیں تھی کہ وہ میرا نہیں رہا، تکلیف تو یہ تھی کہ میں جس شخص کو اپنی سچائی، اپنی وفا اور اپنی محبت کا امین سمجھتی رہی، اسی کے سامنے آخرکار مجھے اپنے خلوص کا ثبوت دینا پڑا۔ میں نے اسے کبھی قید نہیں کیا تھا، اسے جانے کا پورا اختیار تھا، مگر کاش وہ جاتے ہوئے اتنا تو سچ بول دیتا کہ میں خود کو قصوروار سمجھ کر برسوں نہ جیتی۔ کاش وہ یہ نہ بھولتا کہ کسی تعلق کو ختم کرنا انسان کا اختیار ہو سکتا ہے، مگر کسی کے دل کو بے وجہ الجھا کر، اسے امید اور بے یقینی کے درمیان چھوڑ دینا ایک ایسا زخم ہے جس کا درد جدائی کے بعد بھی بہت دیر تک ساتھ چلتا ہے۔ اب میں اس کے کسی بہانے کا جواب نہیں چاہتی، کیونکہ کچھ سوالوں کے جواب مل بھی جائیں تو گزرے ہوئے وقت کو واپس نہیں لاتے۔ بس اتنا سمجھ گئی ہوں کہ جسے رہنا ہو، وہ راستے تلاش کرتا ہے، اور جسے جانا ہو، وہ بہانے۔ اور کبھی کبھی سب سے گہرا دکھ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی چھوڑ کر چلا گیا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ہم آخر تک اسے سچا سمجھتے رہے، جبکہ وہ بہت پہلے ہمارے ساتھ سچ بولنا چھوڑ چکا تھا۔ ✍️