حضرت ابراھیم کی نیچر اور سمجھ ایسی تھی وہ ہر بھلائی کی نسبت رب العالمین کی طرف کرتے تھے ۔ اگر کسی کی سمجھ اور نیچر۔مختلف ہے تو وہ سب شر اور خیر کی نسبت اللہ کی طرف کر سکتا ہے ، اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف کرنا گناہ ہے جیسے کہ قران میں کہا گیا ۔۔ قل کل من عند اللہ ۔۔ کہہ کہ سب اللہ کی طرف سے ہے ۔۔