@danhgiathucte28: Bàn nâng hạ giá rẻ. #bannanghagiare

ĐÁNH GIÁ THỰC TẾ ✅
ĐÁNH GIÁ THỰC TẾ ✅
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 16 September 2026 15:15:21 GMT
8
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @danhgiathucte28, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

متاثرین کے حقوق دو، پھر قبضہ لو سیکٹر  E-12 سے ملحقہ علاقوں میں سی ڈی اے کی جانب سے اچانک آپریشن ایک نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ایسے افراد اور خاندان، جو برسوں سے ان علاقوں میں رہائش پذیر یا کاروبار کر رہے ہیں، ان کے خلاف مبینہ طور پر بغیر پیشگی نوٹس اور مناسب مہلت کے کارروائی کی گئی۔ ہمارے بہت سے متاثرین کا مؤقف ہے کہ ان کے قانونی و مالی حقوق/ادائیگیاں تاحال زیرِ التوا ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق کارروائی کے دوران یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ بعض متاثرین کی ادائیگیاں pending ہیں، بلکہ اس حوالے سے تحریری طور پر بھی نشاندہی کی گئی۔ اس کے باوجود انہی لوگوں کے گھروں، دکانوں اور دیگر تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنا ایک اہم قانونی اور اخلاقی سوال پیدا کرتا ہے۔ میرا سوال متعلقہ حکام، بالخصوص ڈاکٹر انعم فاطمہ صاحبہ سے ہے: اگر کسی متاثرہ شخص کی ادائیگی واقعی زیرِ التوا ہے، تو پہلے اس کے واجب الادا حقوق اور ادائیگی کا معاملہ کیوں حل نہیں کیا جاتا؟ اگر متعلقہ تحصیلدار یا پٹواری کی سطح پر بھی کسی ادائیگی کے pending ہونے کا اعتراف موجود ہے، تو پھر اسی شخص کی تعمیر کو منہدم کرنے کا جواز کیا ہے؟ 1985 سے متاثرین اپنے حقوق کے حصول کے لیے دربدر ہیں۔ انہوں نے دہائیوں تک انتظار کیا، دفاتر کے چکر لگائے اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ ہمارا مؤقف انتہائی واضح ہے: “ہمارے حقوق دو، پھر قبضہ لو۔” ہم حکومتِ پاکستان، وزارتِ داخلہ، سی ڈی اے اور تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ: 1. جن متاثرین کے مالی یا قانونی حقوق/ادائیگیاں زیرِ التوا ہیں، پہلے ان کے معاملات حل کیے جائیں۔ 2. کسی بھی آپریشن سے قبل متاثرین کو قانون کے مطابق پیشگی نوٹس اور مناسب مہلت دی جائے۔ 3. زیرِ التوا ادائیگیوں اور واجب الادا حقوق کی باقاعدہ تحریری تصدیق اور شفاف فہرست مرتب کی جائے۔ 4. جن افراد کے حقوق ابھی زیرِ التوا ہیں، ان کے معاملات کے حتمی فیصلے تک ان کے خلاف کارروائی پر مؤثر قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ 5. کسی بھی آپریشن میں لوگوں کے گھریلو سامان، کاروباری املاک یا دیگر اشیاء کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ 6. اگر کل یا آئندہ G-12/C-12 یا دیگر علاقوں میں بھی کارروائی متوقع ہے تو پہلے متاثرین کے زیرِ التوا حقوق کا معاملہ شفاف طریقے سے حل کیا جائے۔ ہم کسی غیر قانونی قبضے یا غیر قانونی تعمیر کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو اور متاثرین کے تسلیم شدہ حقوق ادا کیے بغیر ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی نہ کی جائے۔ متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، متاثرین کو سنا جائے اور کسی بھی مزید کارروائی سے قبل ان کے زیرِ التوا حقوق اور قانونی دعووں کا فیصلہ کیا جائے۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے: “ہمارے حقوق دو، پھر قبضہ لو۔” @Capital Development Authority
متاثرین کے حقوق دو، پھر قبضہ لو سیکٹر E-12 سے ملحقہ علاقوں میں سی ڈی اے کی جانب سے اچانک آپریشن ایک نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ایسے افراد اور خاندان، جو برسوں سے ان علاقوں میں رہائش پذیر یا کاروبار کر رہے ہیں، ان کے خلاف مبینہ طور پر بغیر پیشگی نوٹس اور مناسب مہلت کے کارروائی کی گئی۔ ہمارے بہت سے متاثرین کا مؤقف ہے کہ ان کے قانونی و مالی حقوق/ادائیگیاں تاحال زیرِ التوا ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق کارروائی کے دوران یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ بعض متاثرین کی ادائیگیاں pending ہیں، بلکہ اس حوالے سے تحریری طور پر بھی نشاندہی کی گئی۔ اس کے باوجود انہی لوگوں کے گھروں، دکانوں اور دیگر تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنا ایک اہم قانونی اور اخلاقی سوال پیدا کرتا ہے۔ میرا سوال متعلقہ حکام، بالخصوص ڈاکٹر انعم فاطمہ صاحبہ سے ہے: اگر کسی متاثرہ شخص کی ادائیگی واقعی زیرِ التوا ہے، تو پہلے اس کے واجب الادا حقوق اور ادائیگی کا معاملہ کیوں حل نہیں کیا جاتا؟ اگر متعلقہ تحصیلدار یا پٹواری کی سطح پر بھی کسی ادائیگی کے pending ہونے کا اعتراف موجود ہے، تو پھر اسی شخص کی تعمیر کو منہدم کرنے کا جواز کیا ہے؟ 1985 سے متاثرین اپنے حقوق کے حصول کے لیے دربدر ہیں۔ انہوں نے دہائیوں تک انتظار کیا، دفاتر کے چکر لگائے اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ ہمارا مؤقف انتہائی واضح ہے: “ہمارے حقوق دو، پھر قبضہ لو۔” ہم حکومتِ پاکستان، وزارتِ داخلہ، سی ڈی اے اور تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ: 1. جن متاثرین کے مالی یا قانونی حقوق/ادائیگیاں زیرِ التوا ہیں، پہلے ان کے معاملات حل کیے جائیں۔ 2. کسی بھی آپریشن سے قبل متاثرین کو قانون کے مطابق پیشگی نوٹس اور مناسب مہلت دی جائے۔ 3. زیرِ التوا ادائیگیوں اور واجب الادا حقوق کی باقاعدہ تحریری تصدیق اور شفاف فہرست مرتب کی جائے۔ 4. جن افراد کے حقوق ابھی زیرِ التوا ہیں، ان کے معاملات کے حتمی فیصلے تک ان کے خلاف کارروائی پر مؤثر قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ 5. کسی بھی آپریشن میں لوگوں کے گھریلو سامان، کاروباری املاک یا دیگر اشیاء کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ 6. اگر کل یا آئندہ G-12/C-12 یا دیگر علاقوں میں بھی کارروائی متوقع ہے تو پہلے متاثرین کے زیرِ التوا حقوق کا معاملہ شفاف طریقے سے حل کیا جائے۔ ہم کسی غیر قانونی قبضے یا غیر قانونی تعمیر کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو اور متاثرین کے تسلیم شدہ حقوق ادا کیے بغیر ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی نہ کی جائے۔ متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، متاثرین کو سنا جائے اور کسی بھی مزید کارروائی سے قبل ان کے زیرِ التوا حقوق اور قانونی دعووں کا فیصلہ کیا جائے۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے: “ہمارے حقوق دو، پھر قبضہ لو۔” @Capital Development Authority

About