@hao_thich_vao_bep: Tôm nấu khế chua cũng ngon hông kém bò nấu khế chua các bác ạ #HảoThíchVàoBếp #thíchvàobếp #thíchnấuăn #monngonmoingay #canhchuatom

Hảo Thích Vào Bếp
Hảo Thích Vào Bếp
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 17 September 2026 03:51:54 GMT
3381
42
1
5

Music

Download

Comments

naucunghang
Nấu Cùng Hằng :
Hằng ăn với
2026-09-17 05:10:54
0
To see more videos from user @hao_thich_vao_bep, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

“ بارش ہو رہی تھی۔ تیز۔ بہت تیز۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اُسے بارش کبھی پسند نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی: “بارش میں ہر چیز اداس لگنے لگتی ہے…” اور میں ہنس دیتا تھا۔ مجھے کیا پتا تھا ایک دن واقعی بارش مجھے اُس کی یاد میں مار ڈالے گی۔ اُس کا نام ماہرہ تھا۔ سادہ سی لڑکی۔ نہ زیادہ خوبصورت نہ زیادہ fashionable۔ لیکن اُس کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا۔ ایسا سکون جو تھکے ہوئے انسان کو جینے کی وجہ دے دے۔ ہم پہلی بار یونیورسٹی کی library میں ملے تھے۔ وہ corner میں بیٹھی novel پڑھ رہی تھی۔ باہر بارش ہو رہی تھی اور باقی سب لوگ weather enjoy کر رہے تھے۔ لیکن وہ کھڑکی سے دور بیٹھی تھی۔ میں نے پوچھا: “تم بارش enjoy نہیں کرتی؟” اُس نے بغیر میری طرف دیکھے کہا: “بارشیں صرف شروع میں اچھی لگتی ہیں… بعد میں چیزیں بہا لے جاتی ہیں…” مجھے اُس وقت اُس کی بات سمجھ نہیں آئی۔ وقت گزرتا گیا۔ ہم قریب آتے گئے۔ وہ کم بولتی تھی مگر میری ہر خاموشی سمجھ لیتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے لگتا تھا وہ لڑکی نہیں… میری دعا ہے۔ ایک رات اُس نے اچانک پوچھا: “اگر میں ایک دن چلی گئی تو؟” میں ہنس پڑا۔ “ڈراؤ مت… تم کہیں نہیں جاؤ گی…” وہ خاموش ہوگئی۔ بہت دیر تک۔ پھر آہستہ بولی: “ہر انسان رہنے کیلئے نہیں آتا…” اُس دن کے بعد میں نے محسوس کیا وہ بدل رہی تھی۔ پہلے جیسی ہنسی نہیں رہی تھی۔ آنکھوں کے نیچے سائے آ گئے تھے۔ اور سب سے عجیب بات… وہ اکثر مجھے بہت غور سے دیکھتی تھی۔ ایسے… جیسے آخری بار دیکھ رہی ہو۔ پھر ایک دن وہ یونیورسٹی نہیں آئی۔ میں نے call کی۔ Phone بند۔ Message کیا۔ No reply۔ میں اُس کے گھر گیا۔ دروازہ اُس کی چھوٹی بہن نے کھولا۔ اور جو اُس نے کہا… اُس کے بعد میری پوری دنیا رک گئی۔ “بھائی… آپ کو نہیں پتا؟ آپی hospital میں ہیں…” ماہرہ کو دل کی خطرناک بیماری تھی۔ پرانا مسئلہ۔ لیکن اُس نے کبھی مجھے بتایا نہیں۔ کیونکہ وہ کہتی تھی: “میں نہیں چاہتی تھی تم مجھ پر ترس کھاؤ…” Hospital میں وہ سفید bed پر لیٹی تھی۔ بہت کمزور۔ میں اُس کے پاس بیٹھا اور پہلی بار اُس پر غصہ آیا۔ “تم نے بتایا کیوں نہیں؟!” وہ ہلکا سا مسکرائی۔ “کیونکہ تم رونے لگتے…” میں واقعی رو پڑا۔ اُس رات بارش ہو رہی تھی۔ اور عجیب بات… ماہرہ بہت ڈری ہوئی تھی۔ وہ بار بار کھڑکی کی طرف دیکھتی۔ پھر اُس نے میرا ہاتھ پکڑا۔ زور سے۔ بہت زور سے۔ “مجھے بارش سے ڈر لگتا ہے…” میں حیران ہوا۔ “کیوں؟” اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “امی بھی ایسی ہی ایک بارش والی رات مجھے چھوڑ گئی تھیں…” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف باہر بارش کی آواز آ رہی تھی۔ اور اندر… میرا دل ٹوٹ رہا تھا۔ صبح 4 بجے اُس کی طبیعت اچانک خراب ہوئی۔ Doctors اندر بھاگے۔ Machines شور کرنے لگیں۔ میں دروازے کے باہر کھڑا بس دعا کر رہا تھا۔ پھر اچانک… سب خاموش ہوگیا۔ بس بارش کی آواز باقی رہ گئی۔ Doctor باہر آیا۔ سر جھکا ہوا تھا۔ میں سمجھ گیا تھا۔ لیکن پھر بھی پوچھا: “وہ… ٹھیک ہے نا…؟” Doctor کی خاموشی میرے لئے موت تھی۔ ماہرہ چلی گئی۔ اُسی بارش میں جس سے وہ نفرت کرتی تھی۔ آج پانچ سال گزر چکے ہیں۔ میں اب بھی بارش سے نفرت کرتا ہوں۔ کیونکہ لوگ کہتے ہیں بارش یادیں تازہ کرتی ہے۔ جھوٹ کہتے ہیں۔ بارش یادیں تازہ نہیں کرتی… بارش انسان کے اندر دفن درد کو دوبارہ زندہ کر دیتی ہے۔ 🖤🌧️
“ بارش ہو رہی تھی۔ تیز۔ بہت تیز۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اُسے بارش کبھی پسند نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی: “بارش میں ہر چیز اداس لگنے لگتی ہے…” اور میں ہنس دیتا تھا۔ مجھے کیا پتا تھا ایک دن واقعی بارش مجھے اُس کی یاد میں مار ڈالے گی۔ اُس کا نام ماہرہ تھا۔ سادہ سی لڑکی۔ نہ زیادہ خوبصورت نہ زیادہ fashionable۔ لیکن اُس کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا۔ ایسا سکون جو تھکے ہوئے انسان کو جینے کی وجہ دے دے۔ ہم پہلی بار یونیورسٹی کی library میں ملے تھے۔ وہ corner میں بیٹھی novel پڑھ رہی تھی۔ باہر بارش ہو رہی تھی اور باقی سب لوگ weather enjoy کر رہے تھے۔ لیکن وہ کھڑکی سے دور بیٹھی تھی۔ میں نے پوچھا: “تم بارش enjoy نہیں کرتی؟” اُس نے بغیر میری طرف دیکھے کہا: “بارشیں صرف شروع میں اچھی لگتی ہیں… بعد میں چیزیں بہا لے جاتی ہیں…” مجھے اُس وقت اُس کی بات سمجھ نہیں آئی۔ وقت گزرتا گیا۔ ہم قریب آتے گئے۔ وہ کم بولتی تھی مگر میری ہر خاموشی سمجھ لیتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے لگتا تھا وہ لڑکی نہیں… میری دعا ہے۔ ایک رات اُس نے اچانک پوچھا: “اگر میں ایک دن چلی گئی تو؟” میں ہنس پڑا۔ “ڈراؤ مت… تم کہیں نہیں جاؤ گی…” وہ خاموش ہوگئی۔ بہت دیر تک۔ پھر آہستہ بولی: “ہر انسان رہنے کیلئے نہیں آتا…” اُس دن کے بعد میں نے محسوس کیا وہ بدل رہی تھی۔ پہلے جیسی ہنسی نہیں رہی تھی۔ آنکھوں کے نیچے سائے آ گئے تھے۔ اور سب سے عجیب بات… وہ اکثر مجھے بہت غور سے دیکھتی تھی۔ ایسے… جیسے آخری بار دیکھ رہی ہو۔ پھر ایک دن وہ یونیورسٹی نہیں آئی۔ میں نے call کی۔ Phone بند۔ Message کیا۔ No reply۔ میں اُس کے گھر گیا۔ دروازہ اُس کی چھوٹی بہن نے کھولا۔ اور جو اُس نے کہا… اُس کے بعد میری پوری دنیا رک گئی۔ “بھائی… آپ کو نہیں پتا؟ آپی hospital میں ہیں…” ماہرہ کو دل کی خطرناک بیماری تھی۔ پرانا مسئلہ۔ لیکن اُس نے کبھی مجھے بتایا نہیں۔ کیونکہ وہ کہتی تھی: “میں نہیں چاہتی تھی تم مجھ پر ترس کھاؤ…” Hospital میں وہ سفید bed پر لیٹی تھی۔ بہت کمزور۔ میں اُس کے پاس بیٹھا اور پہلی بار اُس پر غصہ آیا۔ “تم نے بتایا کیوں نہیں؟!” وہ ہلکا سا مسکرائی۔ “کیونکہ تم رونے لگتے…” میں واقعی رو پڑا۔ اُس رات بارش ہو رہی تھی۔ اور عجیب بات… ماہرہ بہت ڈری ہوئی تھی۔ وہ بار بار کھڑکی کی طرف دیکھتی۔ پھر اُس نے میرا ہاتھ پکڑا۔ زور سے۔ بہت زور سے۔ “مجھے بارش سے ڈر لگتا ہے…” میں حیران ہوا۔ “کیوں؟” اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “امی بھی ایسی ہی ایک بارش والی رات مجھے چھوڑ گئی تھیں…” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف باہر بارش کی آواز آ رہی تھی۔ اور اندر… میرا دل ٹوٹ رہا تھا۔ صبح 4 بجے اُس کی طبیعت اچانک خراب ہوئی۔ Doctors اندر بھاگے۔ Machines شور کرنے لگیں۔ میں دروازے کے باہر کھڑا بس دعا کر رہا تھا۔ پھر اچانک… سب خاموش ہوگیا۔ بس بارش کی آواز باقی رہ گئی۔ Doctor باہر آیا۔ سر جھکا ہوا تھا۔ میں سمجھ گیا تھا۔ لیکن پھر بھی پوچھا: “وہ… ٹھیک ہے نا…؟” Doctor کی خاموشی میرے لئے موت تھی۔ ماہرہ چلی گئی۔ اُسی بارش میں جس سے وہ نفرت کرتی تھی۔ آج پانچ سال گزر چکے ہیں۔ میں اب بھی بارش سے نفرت کرتا ہوں۔ کیونکہ لوگ کہتے ہیں بارش یادیں تازہ کرتی ہے۔ جھوٹ کہتے ہیں۔ بارش یادیں تازہ نہیں کرتی… بارش انسان کے اندر دفن درد کو دوبارہ زندہ کر دیتی ہے۔ 🖤🌧️

About