@ranaqaiseraslam1: کیا نکاحِ مسیار جائز ہے؟ — فوڈ اسٹار میں اہم سوال و جواب فوڈ اسٹار ریسٹورنٹ، دمام میں منعقدہ خصوصی سوال و جواب کے سیشن میں ڈاکٹر علامہ حافظ ہشام الٰہی ظہیر صاحب سے ایک اہم شرعی سوال کیا گیا: “کیا نکاحِ مسیار جائز ہے؟ اور نکاحِ مسیار کے حوالے سے شرعی اصول کیا ہیں؟” علامہ صاحب نے اس سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے نکاحِ مسیار کی مختلف صورتوں اور اس کے شرعی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر نکاح شرعی شرائط کے مطابق ہو اور فریقین باہمی رضامندی سے نکاح کے حقوق و معاملات طے کریں تو اس کی ایک صورت اہلِ علم کے نزدیک جائز سمجھی جاتی ہے۔ تاہم علامہ صاحب نے ایک اہم فرق واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اگر نکاح کرتے وقت پہلے ہی یہ نیت یا معاہدہ موجود ہو کہ فلاں تاریخ یا مقررہ مدت تک نکاح رکھنا ہے اور اس کے بعد لازماً طلاق دے دینی ہے تو یہ صورت درست نکاح کے تصور سے مختلف ہو جاتی ہے اور اس کے بارے میں شرعی حکم بھی مختلف ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ نکاح کو کسی مقررہ مدت کے ساتھ باندھ دینا، یا ابتدا ہی سے طلاق کی تاریخ طے کر لینا، محض نکاحِ مسیار کہہ دینے سے جائز نہیں ہو جاتا۔ اس معاملے میں اصل اہمیت نیت، شرائط، باہمی رضامندی اور نکاح کے شرعی اصولوں کی ہے۔ یہ سوال و جواب کا سیشن اس لیے بھی اہم رہا کہ حاضرین نے براہِ راست حساس اور اہم دینی مسائل پر سوالات کیے اور علامہ صاحب نے ان کے جوابات تفصیل کے ساتھ بیان کیے۔ 📍 مقام: فوڈ اسٹار ریسٹورنٹ، دمام، سعودی عرب 🎤 جواب: ڈاکٹر علامہ حافظ ہشام الٰہی ظہیر صاحب 🎙️ خصوصی سوال و جواب کا سیشن #FoodStarRestaurant #Dammam #HishamIlahiZaheer #DrHishamIlahiZaheer #NikahMisyar