@real_alfa_1: انسان کی اصل شخصیت کی آزمائش آسائشوں یا عام حالات میں نہیں، بلکہ ان دو مختلف انتہاؤں پر ہوتی ہے: کچھ نہ ہونے پر صبر: یہ انسان کے اندرونی ضبط، توکل اور استقامت کو ظاہر کرتا ہے۔ مشکل وقت میں شکوہ کرنے کے بجائے صبر کا دامن تھامے رکھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کا ظرف کتنا بڑا ہے۔ سب کچھ ہونے پر رویہ: جب انسان کے پاس مال، دولت، طاقت یا اختیار آ جائے، تو اس وقت اس کا عاجزانہ رویہ اور اخلاق اس کے عالی ظرف ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ تکبر اور غرور کے بجائے تواضع اختیار کرنا ہی حقیقی انسانیت ہے۔ یہ قول انسان کو خود احتسابی کا درس دیتا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے اخلاق، ظرف اور کردار کو بلندی پر رکھے۔