@saima71977: تجھ سے اب اور کوئی واسطہ تو نہیں ہے لیکن، جب بھی دل دکھتا ہے، تم بہت یاد آتے ہو۔ اب نہ تم سے کوئی شکوہ ہے، نہ کوئی گلہ، نہ تمہیں پانے کی خواہش، نہ تمہیں بلانے کی دعا، بس دل کے کسی خاموش کونے میں تمہارا نام آج بھی ویسے ہی رکھا ہے، جیسے کوئی شخص پرانی کتاب میں ایک سوکھا ہوا پھول سنبھال کر رکھتا ہے۔ ہم نے مان لیا کہ راستے جدا ہو گئے، تم اپنی دنیا میں خوش ہو، اور ہم نے بھی جینا سیکھ لیا ہے، مگر کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے، صرف انسان ان کے ساتھ رہنا سیکھ لیتا ہے۔ کبھی رات بہت لمبی ہو جائے، کبھی آنکھوں میں نیند نہ اترے، کبھی کسی بات پر دل اچانک بھر آئے، کبھی خاموشی حد سے زیادہ شور کرنے لگے، تو نہ جانے کیوں تمہاری یاد دروازہ کھٹکھٹانے لگتی ہے۔ تمہیں یاد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی، بس دل دکھتا ہے اور تم یاد آ جاتے ہو۔ شاید اس لیے کہ جب تم میرے قریب تھے تو ہر دکھ کا ایک سہارا تھا، تمہاری ایک بات میرے اندر کے کئی طوفان تھام لیتی تھی۔ اب وہی طوفان جب اٹھتے ہیں تو تمہاری کمی محسوس ہوتی ہے۔ کتنا عجیب رشتہ تھا ہمارا، جو ختم ہو کر بھی ختم نہ ہوا، تم زندگی سے نکل گئے مگر یادوں سے نہ نکل سکے۔ تم سے بات نہیں ہوتی، تمہیں دیکھنے کی طلب بھی نہیں، مگر دل کے کسی موسم میں تم اب بھی موجود ہو۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں اگر دوبارہ مل بھی گئے تو کیا کہیں گے ایک دوسرے سے؟ شاید کچھ بھی نہیں، بس ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنی اپنی خاموشیوں کو سمجھ جائیں گے۔ میں نے تمہیں بھلانے کی کوشش نہیں کی، بس تمہیں یاد کرنے کی عادت چھوڑ دی ہے، لیکن یہ دل بھی عجیب ہے، جب خوش ہو تو دنیا یاد آتی ہے، اور جب ٹوٹتا ہے تو صرف تم یاد آتے ہو۔ تجھ سے اب کوئی واسطہ نہیں ہے میرا، نہ کوئی حق، نہ کوئی رشتہ، نہ کوئی وعدہ، مگر ایک بات آج بھی سچ ہے تم میری زندگی کا وہ باب ہو جسے میں دوبارہ پڑھنا نہیں چاہتی مگر جب بھی دل دکھتا ہے، نہ جانے کیوں تم بہت یاد آتے ہو۔