@mitchmargut:

Hooked on You
Hooked on You
Open In TikTok:
Region: CA
Thursday 17 September 2026 15:02:19 GMT
3205
166
1
9

Music

Download

Comments

auriceli.sousa
AURICÉLIA :
☺️❤️‍🔥👍
2026-09-17 20:00:49
1
To see more videos from user @mitchmargut, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

درود  پاک گن کر پڑھنا بہتر ہے یا بغیر گنتی پڑھیں  ہمارے معاشرے میں درودِ پاک کے بارے میں دو مختلف طرزِ فکر پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقے کا موقف یہ ہے کہ درودِ پاک کو کھلے دل سے اور بغیر گنتی کے پڑھنا چاہیے۔ ان کے نزدیک قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں درودِ پاک کی کثرت کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے کسی خاص تعداد میں اپنے آپ کو محدود کرنے کے بجائے صبح و شام، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اور ہر ممکن وقت میں کثرت کے ساتھ درودِ پاک پڑھتے رہنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ جب درودِ پاک کو گنتی سے آزاد رکھا جائے تو انسان زیادہ سے زیادہ درود پڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی توجہ صرف محبتِ رسول ﷺ اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ پر مرکوز رہتی ہے۔ دوسری طرف ایک طبقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ درودِ پاک کو گن کر پڑھنا زیادہ مفید اور عملی طریقہ ہے۔ ان کے نزدیک تعداد مقرر کرنے سے انسان کو معلوم رہتا ہے کہ وہ روزانہ کتنا درودِ پاک پڑھ رہا ہے اور اس کا معمول کس حد تک قائم ہے۔ بہت سے اہلِ اللہ اور مشائخِ کرام نے اپنے مریدین کو درودِ پاک کی مخصوص تعداد مقرر کرنے کی تلقین فرمائی ہے تاکہ عمل میں تسلسل اور پابندی پیدا ہو۔ بعض بزرگوں نے 313 مرتبہ روزانہ درودِ پاک پڑھنے والوں کو بھی کثرت سے درود پڑھنے والوں میں شمار کیا ہے، کیونکہ اصل مقصود یہ ہے کہ انسان روزانہ ایک مستقل اور مضبوط معمول قائم کرے۔احادیث مبارکہ کے اندر 80 بار درودشریف پڑھنے کی فضیلت موجود ہے۔100 بار پانچ سو بار اور ہزار بار درودشریف پڑھنے کی فضیلت آئی ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے بھی گنتی کے ساتھ درودِ پاک پڑھنے میں بڑی حکمت موجود ہے۔ انسانی ذہن اس طرح بنایا گیا ہے کہ جب اسے کوئی واضح ہدف یا ٹارگٹ دیا جاتا ہے تو وہ اس کے حصول کے لیے خود بخود اپنی توجہ اور توانائی کو منظم کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب انسان روزانہ اپنے لیے ایک مقررہ تعداد طے کر لیتا ہے تو اس کا ذہن اس تعداد کو مکمل کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ جب وہ اپنا روزانہ کا ہدف پورا کر لیتا ہے تو اسے اطمینان، خوشی اور کامیابی کا احساس ہوتا ہے، جو اسے اگلے دن بھی اسی شوق اور رغبت کے ساتھ عمل جاری رکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر درودِ پاک کی کوئی تعداد مقرر نہ کی جائے اور صرف یہ سوچ لیا جائے کہ
درود پاک گن کر پڑھنا بہتر ہے یا بغیر گنتی پڑھیں ہمارے معاشرے میں درودِ پاک کے بارے میں دو مختلف طرزِ فکر پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقے کا موقف یہ ہے کہ درودِ پاک کو کھلے دل سے اور بغیر گنتی کے پڑھنا چاہیے۔ ان کے نزدیک قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں درودِ پاک کی کثرت کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے کسی خاص تعداد میں اپنے آپ کو محدود کرنے کے بجائے صبح و شام، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اور ہر ممکن وقت میں کثرت کے ساتھ درودِ پاک پڑھتے رہنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ جب درودِ پاک کو گنتی سے آزاد رکھا جائے تو انسان زیادہ سے زیادہ درود پڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی توجہ صرف محبتِ رسول ﷺ اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ پر مرکوز رہتی ہے۔ دوسری طرف ایک طبقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ درودِ پاک کو گن کر پڑھنا زیادہ مفید اور عملی طریقہ ہے۔ ان کے نزدیک تعداد مقرر کرنے سے انسان کو معلوم رہتا ہے کہ وہ روزانہ کتنا درودِ پاک پڑھ رہا ہے اور اس کا معمول کس حد تک قائم ہے۔ بہت سے اہلِ اللہ اور مشائخِ کرام نے اپنے مریدین کو درودِ پاک کی مخصوص تعداد مقرر کرنے کی تلقین فرمائی ہے تاکہ عمل میں تسلسل اور پابندی پیدا ہو۔ بعض بزرگوں نے 313 مرتبہ روزانہ درودِ پاک پڑھنے والوں کو بھی کثرت سے درود پڑھنے والوں میں شمار کیا ہے، کیونکہ اصل مقصود یہ ہے کہ انسان روزانہ ایک مستقل اور مضبوط معمول قائم کرے۔احادیث مبارکہ کے اندر 80 بار درودشریف پڑھنے کی فضیلت موجود ہے۔100 بار پانچ سو بار اور ہزار بار درودشریف پڑھنے کی فضیلت آئی ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے بھی گنتی کے ساتھ درودِ پاک پڑھنے میں بڑی حکمت موجود ہے۔ انسانی ذہن اس طرح بنایا گیا ہے کہ جب اسے کوئی واضح ہدف یا ٹارگٹ دیا جاتا ہے تو وہ اس کے حصول کے لیے خود بخود اپنی توجہ اور توانائی کو منظم کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب انسان روزانہ اپنے لیے ایک مقررہ تعداد طے کر لیتا ہے تو اس کا ذہن اس تعداد کو مکمل کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ جب وہ اپنا روزانہ کا ہدف پورا کر لیتا ہے تو اسے اطمینان، خوشی اور کامیابی کا احساس ہوتا ہے، جو اسے اگلے دن بھی اسی شوق اور رغبت کے ساتھ عمل جاری رکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر درودِ پاک کی کوئی تعداد مقرر نہ کی جائے اور صرف یہ سوچ لیا جائے کہ "زیادہ سے زیادہ پڑھ لیں گے"، تو بعض اوقات انسان غفلت، سستی اور مصروفیات کا شکار ہو جاتا ہے۔ شیطان بھی انسان کو یہ خیال دلاتا ہے کہ آج وقت نہیں ملا، کل زیادہ پڑھ لیں گے۔ پھر یہی کل کا وعدہ بار بار مؤخر ہوتا رہتا ہے اور رفتہ رفتہ درودِ پاک کا معمول کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لیے ایک مقررہ تعداد انسان کو سستی اور بے ترتیبی سے بچاتی ہے اور عمل میں استقامت پیدا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق روزانہ درودِ پاک کا ایک ہدف مقرر کرے۔ مثلاً اگر کوئی شخص روزانہ 3125 مرتبہ درودِ پاک پڑھنے کا معمول بنا لے تو تقریباً چالیس دن میں سوا لاکھ درودِ پاک مکمل ہو جاتے ہیں۔ جب سوا لاکھ مکمل ہو جائیں تو اگلا سوا لاکھ شروع کر دیا جائے۔ اس طرح مسلسل محنت، استقامت اور ترتیب کے ساتھ انسان بہت جلد لاکھوں اور کروڑوں درودِ پاک پڑھنے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف عمل کو منظم کرتا ہے بلکہ شوق، تسلسل اور ترقی کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔ البتہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اصل مقصد صرف تعداد پوری کرنا نہیں بلکہ محبت، ادب، اخلاص اور حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں قلبی عقیدت کے ساتھ درودِ پاک پڑھنا ہے۔ اگر تعداد مقرر کرنے سے انسان میں استقامت پیدا ہوتی ہے تو یہ ایک بہترین ذریعہ ہے، اور اگر کوئی شخص بغیر گنتی کے بھی کثرت سے درودِ پاک پڑھ سکتا ہے تو یہ بھی باعثِ خیر ہے۔ تاہم عام لوگوں کے لیے تعداد مقرر کرنا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس سے عمل میں نظم، تسلسل اور ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا کوشش کرنی چاہیے کہ روزانہ درودِ پاک کا ایک مناسب ہدف مقرر کیا جائے، اس کی پابندی کی جائے اور کسی بھی حال میں اپنے معمول کو ترک نہ کیا جائے، تاکہ زندگی درود و سلام کی خوشبو سے معطر رہے اور انسان مسلسل انوارِ مصطفیٰ ﷺ سے فیض یاب ہوتا ر

About