@merypastumho66: پھر اُس کی شادی کسی اور سے ہو گئی… یہ الفاظ نہیں تھے، یہ میرے دل پر لکھا ہوا فیصلہ تھا… ایسا فیصلہ جس کے خلاف میں کبھی اپیل بھی نہ کر سکا۔ اُس دن آسمان ویسا ہی تھا، لوگ ویسے ہی ہنس رہے تھے، دنیا ویسی ہی چل رہی تھی… بس ایک میں تھا جو اندر سے ختم ہو گیا تھا، چپ چاپ، بغیر کسی آواز کے۔ کسی نے آ کر بس اتنا کہا، "وہ اب کسی اور کی ہو گئی…" اور اُس ایک جملے نے میری ساری سانسیں جیسے ادھار کر لیں۔ میں زندہ تو رہا… مگر جینا وہیں ختم ہو گیا۔ وہ جس کے قہقہے میری راتوں کی روشنی تھے، آج وہی ہنسی کسی اور کے کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹتی ہے… اور میں… میں اُن آوازوں کا وہ سننے والا ہوں، جس کا اُن پر اب کوئی حق نہیں رہا۔ کتنا عجیب ہے نا… میں نے اُسے کبھی چھونا بھی نہیں تھا، مگر اُس کے جانے نے مجھے یوں توڑا جیسے کوئی میری روح کو نوچ کر لے گیا ہو۔ میں آج بھی کبھی کبھی اُس کا نام آہستہ سے لیتا ہوں… جیسے کوئی زخمی آدمی اپنے زخم کو خود ہی چھیڑتا ہے، صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ درد اب بھی زندہ ہے یا نہیں… اور ہر بار جواب آتا ہے— ہاں، درد ابھی مرا نہیں… بس میں مر گیا ہوں۔ راتوں کو جب نیند نہیں آتی، تو میں سوچتا ہوں… کیا وہ بھی کبھی مجھے یاد کرتی ہوگی؟ یا اُس نے واقعی مجھے اُسی دن دفن کر دیا تھا جس دن اُس نے کسی اور کا ہاتھ تھاما؟ سچ کہوں تو… وہ میری محبت نہیں تھی، وہ میری پوری کائنات تھی… اور اب میری کائنات کسی اور کے نام ہو چکی ہے۔ اب تو بس یہی لگتا ہے… میں کسی کی کہانی کا وہ کردار ہوں جسے بیچ میں ہی مار دیا گیا ہو، تاکہ باقی کہانی خوبصورت لگے… "پھر اُس کی شادی کسی اور سے ہو گئی…" یہ جملہ نہیں ہے… یہ وہ آخری سانس ہے جو میں آج تک پوری نہیں لے سکا… سیاہ بخت 🖤