@muzammalmaan0: خود پر گزرے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے دکھ کو سمجھنا اور کسی کے دکھ سے گزرنا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔ جب تک درد ہماری اپنی دہلیز پر دستک نہیں دیتا، ہم دوسروں کی تکلیف کو محض ایک واقعہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کسی کے جنازے پر کھڑے ہو کر افسوس کے چند لفظ کہہ دینا آسان ہوتا ہے، مگر جب وہی جدائی ہمارے اپنے کسی عزیز کو ہم سے چھین لیتی ہے تو پھر سمجھ آتا ہے کہ ماتم کرنے کے لیے ہمیشہ کسی رسم، کسی جنازے یا کسی کے کہنے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اندر اتر کر اس کی پوری دنیا بدل دیتے ہیں۔ پھر نہ آنکھوں کو رونے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ لبوں کو آہ بھرنے کے لیے کسی اجازت کی۔ بس ایک یاد دل میں اٹھتی ہے اور آنکھیں خودبخود بھیگ جاتی ہیں۔ کیونکہ دل کے کسی کونے میں وہ شخص اب بھی زندہ ہوتا ہے جسے دنیا کب کا بھلا چکی ہوتی ہے۔ ہم دوسروں کے غم پر اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ وقت سب ٹھیک کر دے گا، مگر جب اپنی زندگی میں کوئی ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے کوئی دوسرا پر نہیں کر سکتا، تب معلوم ہوتا ہے کہ وقت صرف گزرنا سکھاتا ہے، بھولنا نہیں۔ بعض لوگوں کی جدائی انسان کے وجود میں اس طرح بس جاتی ہے کہ وہ محفل میں بیٹھا بھی ہو تو اس کا ایک حصہ ہمیشہ کسی خاموش کونے میں سوگوار رہتا ہے۔ اور پھر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ کسی کے دکھ پر آنسو بہانے کے لیے میت کے سامنے کھڑا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کی یاد بھی جنازے جیسا بوجھ بن جاتی ہے، کبھی کسی کی جدائی بھی ماتم بن کر دل میں اترتی ہے، اور کبھی کوئی اپنا دنیا سے رخصت نہیں ہوتا، بس زندگی سے چلا جاتا ہے۔۔۔ مگر اس کے جانے کا غم بھی انسان سے ویسے ہی آنسو چھین لیتا ہے، جیسے کسی بچھڑنے والے کی میت پر بہتے ہیں۔ درد جب اپنا ہو جائے تو آنکھوں کو رونے کا ہنر سیکھنا نہیں پڑتا، آنسو خود راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔
بدصورت بدنصیب لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے تو کہا تھا کہ تم آؤگی میری دہلیز پر، میری زندگی کے سنسان راستوں میں امید کا چراغ جلاؤ گی۔ میں نے تمہارے وعدوں پر یقین کر کے اپنے دل کو تسلی دی، ہر آہٹ کو تمہاری آمد سمجھا، ہر شام تمہارا انتظار کیا۔ مگر آج قسمت نے ایک عجیب منظر دکھایا ہے۔ جس دروازے پر تمہاری دستک کی آس تھی، وہاں کوئی اور میری قسمت کا سودا کرنے آ پہنچا ہے۔ دل یہ ماننے کو تیار نہیں کہ خواب اتنی خاموشی سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ تمہاری یادیں اب بھی اسی دہلیز پر بیٹھی ہیں جہاں کبھی تمہارے آنے کی دعائیں مانگی جاتی تھیں۔ وقت نے شاید فیصلہ بدل دیا، مگر دل آج بھی تمہارے وعدوں کی گواہی دیتا ہے۔ سب کچھ سامنے ہوتے ہوئے بھی ایک کمی سی محسوس ہوتی ہے، جیسے زندگی کا سب سے خوبصورت خواب ادھورا رہ گیا ہو۔ اور یہی ادھوراپن اب میری آنکھوں کی نمی اور خاموشی کا سبب بن چکا
2026-09-18 10:18:05
2
To see more videos from user @muzammalmaan0, please go to the Tikwm
homepage.