@fearless.soul.1: اشعار اس کردار کی نمائندگی کرتے ہیں جو وقتی مفاد کے لیے اپنی خودی کو نیلام نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک عزتِ نفس کوئی سودا نہیں بلکہ ایک ایسا اصول ہے جس پر وہ ہر حال میں قائم رہتا ہے۔ وہ حالات کے دباؤ میں آ کر جھکنے کے بجائے بگڑتے معاملات کو اپنی مرضی سے سنوارتا یا بگاڑتا ہے، کیونکہ اس کی فطرت میں غلامی نہیں بلکہ خودمختاری بسی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ ہار کو بھی وقار کے ساتھ قبول کرتے ہیں مگر جیت کے لیے اپنے اصولوں کا قتل نہیں کرتے۔