@ahmadwrites394: انسان کا ظرف اتنا چھوٹا اور تنگ ہے کہ اگر وہ کسی پر ذرا سا بھی احسان کر دے، کسی کی معمولی سی مدد کر دے یا ایک نوالہ کھلا دے، تو وہ زندگی بھر اس احسان کو جتاتا رہتا ہے۔ وہ سامنے والے کو بات بات پر اس کی غریبی، لاچاری اور اپنے کیے گئے سلوک کا احساس دلا کر اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے۔ لیکن دوسری طرف ذرا اپنے پروردگار کی ذاتِ بابرکات کو دیکھیے! انسان دن رات اس کے احکامات کی دھجیاں اڑاتا ہے، سجدوں سے غافل ہوتا ہے، گناہوں میں غرق رہتا ہے اور نافرمانیوں کی حد کر دیتا ہے۔ مگر اس کے باوجود، وہ کریم رب کبھی اپنے بندے کے منہ سے رزق کا نوالہ نہیں چھینتا۔ وہ کافر کو بھی پالتا ہے، گنہگار کو بھی کھلاتا ہے اور اپنے نافرمانوں پر بھی اپنی نعمتوں کا سایہ برقرار رکھتا ہے۔ یہی فرق ہے خالق اور مخلوق کے ظرف میں! مخلوق تھوڑا سا دے کر سب کچھ مانگتی ہے اور احسان جتاتی ہے، جبکہ خالق سب کچھ دے کر بھی صرف اپنے بندے کے لوٹ آنے اور شکر گزار ہونے کا منتظر رہتا ہے۔ کاش ہم انسان بھی اپنے رب کی اس صفت سے سبق سیکھیں اور احسان جتا کر دوسروں کو رسوا کرنا چھوڑ دیں۔ انسان تو ایک نوالہ کھلا کر بھی احسان جتا دیتا ہے... وہ پروردگار نافرمانیوں کے بعد بھی رزق کا نوالہ نہیں چھینتا! 🤲✨🌾 کیا آپ کو بھی اپنے رب کی اس بے حساب رزاقیت اور صفتِ رحمانیت پر مان ہے؟ اپنے جذبات کا اظہار کمنٹس میں "سبحان اللہ" لکھ کر کریں۔ 👇 #UrduPoetry #UrduQuotes #IslamicQuotes #Rizq #TruthOfLife