@mrs.olarte: Storage Rack! #woodenrack #storagerack #displayrack #rack #rackorganizer

Mommy Caselyn🧿🥀
Mommy Caselyn🧿🥀
Open In TikTok:
Region: PH
Friday 18 September 2026 12:00:00 GMT
363
2
0
5

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @mrs.olarte, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بار موت کو شکست! اس شخص کا نام ’’اسماعیل عزیزی‘‘ ہے اور تعلق تنزانیہ سے۔ اس کی داستان نہایت عجیب ہے۔ لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح موت سے فرار اختیار کریں، مگر موت ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ مگر اسماعیل بار بار موت کو گلے لگاتا ہے، مگر ہر بار موت اس سے بھاگ جاتی ہے۔ 6 مرتبہ اس کی وفات کا اعلان ہوگیا ہے، مگر ہر بات موت اس سے روٹھ کر چلی گئی اور وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ اسماعیل کو 6 مرتبہ باقاعدہ مردہ قرار دیا گیا، لیکن ہر بار اس کی واپسی نے دیکھنے والوں کو حیرت اور خوف میں مبتلا کردیا۔ پہلا واقعہ:  کام کی جگہ پر اسے ایسی شدید چوٹ لگی جسے جان لیوا سمجھا گیا۔ اسے مردہ حالت میں مردہ خانے منتقل کر دیا گیا۔ لیکن جب سب سمجھ رہے تھے کہ کہانی ختم ہو چکی ہے تو اچانک اس کے جسم میں حرکت ہوئی، وہ اٹھ بیٹھا اور مردہ خانے سے باہر چلتا ہوا نکل گیا۔ وہاں موجود لوگ یہ منظر دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ دوسری مرتبہ: اسے ملیریا نے اس قدر نڈھال کر دیا کہ ڈاکٹروں نے باقاعدہ اسے مردہ قرار دے دیا۔ اہل خانہ نے تدفین کی تیاری شروع کر دی اور اسے تابوت میں رکھ دیا۔ لیکن دفن کرنے سے پہلے ہی اس کی آنکھیں کھل گئیں اور ماتم میں ڈوبا گھر اچانک حیرت و صدمے کی چیخوں سے گونج اٹھا۔ تیسرا واقعہ: ایک ہولناک کار حادثہ ہوا۔ اسماعیل کو مردہ سمجھا گیا، وہ طویل عرصے تک بے ہوشی کی حالت میں رہا اور اس کی موت کی سرکاری رپورٹ بھی تیار کر دی گئی۔ لیکن پھر وہ دوبارہ ہوش میں آگیا، گویا موت اسے اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ بدل چکی ہو۔ چوتھی مرتبہ: ایک نہایت زہریلے سانپ کے ڈسنے نے سب کو یقین دلا دیا کہ اب اس کی زندگی ختم ہو چکی ہے۔ اس کی
بار موت کو شکست! اس شخص کا نام ’’اسماعیل عزیزی‘‘ ہے اور تعلق تنزانیہ سے۔ اس کی داستان نہایت عجیب ہے۔ لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح موت سے فرار اختیار کریں، مگر موت ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ مگر اسماعیل بار بار موت کو گلے لگاتا ہے، مگر ہر بار موت اس سے بھاگ جاتی ہے۔ 6 مرتبہ اس کی وفات کا اعلان ہوگیا ہے، مگر ہر بات موت اس سے روٹھ کر چلی گئی اور وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ اسماعیل کو 6 مرتبہ باقاعدہ مردہ قرار دیا گیا، لیکن ہر بار اس کی واپسی نے دیکھنے والوں کو حیرت اور خوف میں مبتلا کردیا۔ پہلا واقعہ: کام کی جگہ پر اسے ایسی شدید چوٹ لگی جسے جان لیوا سمجھا گیا۔ اسے مردہ حالت میں مردہ خانے منتقل کر دیا گیا۔ لیکن جب سب سمجھ رہے تھے کہ کہانی ختم ہو چکی ہے تو اچانک اس کے جسم میں حرکت ہوئی، وہ اٹھ بیٹھا اور مردہ خانے سے باہر چلتا ہوا نکل گیا۔ وہاں موجود لوگ یہ منظر دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ دوسری مرتبہ: اسے ملیریا نے اس قدر نڈھال کر دیا کہ ڈاکٹروں نے باقاعدہ اسے مردہ قرار دے دیا۔ اہل خانہ نے تدفین کی تیاری شروع کر دی اور اسے تابوت میں رکھ دیا۔ لیکن دفن کرنے سے پہلے ہی اس کی آنکھیں کھل گئیں اور ماتم میں ڈوبا گھر اچانک حیرت و صدمے کی چیخوں سے گونج اٹھا۔ تیسرا واقعہ: ایک ہولناک کار حادثہ ہوا۔ اسماعیل کو مردہ سمجھا گیا، وہ طویل عرصے تک بے ہوشی کی حالت میں رہا اور اس کی موت کی سرکاری رپورٹ بھی تیار کر دی گئی۔ لیکن پھر وہ دوبارہ ہوش میں آگیا، گویا موت اسے اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ بدل چکی ہو۔ چوتھی مرتبہ: ایک نہایت زہریلے سانپ کے ڈسنے نے سب کو یقین دلا دیا کہ اب اس کی زندگی ختم ہو چکی ہے۔ اس کی "لاش" کافی دیر تک مردہ خانے میں پڑی رہی۔ اہل خانہ اسے تدفین کے لیے لینے پہنچے اور لاش اٹھانے لگے تو وہ دوبارہ اٹھ بیٹھا۔ پانچویں بار: ایک گہرے بیت الخلا کے گڑھے میں گرنے سے اس کا دم گھٹ گیا اور اسے ایک بار پھر مردہ قرار دے دیا گیا۔ مگر اس بار بھی وہ موت کو شکست دے کر اس کے چنگل سے نکل آیا۔ لیکن چھٹا واقعہ سب سے زیادہ خوفناک بتایا جاتا ہے۔ بار بار اس کے زندہ بچ نکلنے سے خوف زدہ اور شکوک میں مبتلا بعض پڑوسیوں نے مبینہ طور پر فیصلہ کیا کہ اس عجیب و غریب قصے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے۔ چنانچہ اس وقت اس کے گھر کو آگ لگا دی گئی جب وہ اندر موجود تھا۔ لیکن کچھ دیر بعد لوگوں نے جو منظر دیکھا، اس نے ان کے ہوش اڑا دیئے۔ وہ شخص آگ کے شعلوں سے زندہ باہر نکل آیا۔ کپڑے جل چکے تھے، جسم پر آگ کے آثار تھے، مگر وہ پھر بھی زندہ تھا۔ اس واقعے کے بعد اب اسماعیل لوگوں سے کٹ کر الگ تھلگ رہنے لگا ہے۔ اہل خانہ بھی اس سے دور ہوگئے ہیں اور پڑوسی اسے دیکھ کر خوف محسوس کرنے لگے ہیں۔ اب وہ تنہائی میں زندگی گزارتا ہے، زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر کاشت کاری کرتا اور اپنا کھانا خود تیار کرتا ہے۔ اسماعیل کے الفاظ میں زندگی کے لیے ایک عجیب سا اطمینان اور عبرت نظر آتی ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’اللہ کو اپنی زندگی میں سب سے مقدم رکھو، سکون کے ساتھ زندگی گزارو اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف نہ دو۔ دنیا میں کچھ معاملات ایسے ہیں جو انسان کی قدرت سے باہر ہیں، ان کی باگ ڈور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ اسماعیل عزیزی کی یہ داستان یقیناً حیرت انگیز اور پراسرار ہے۔ ایک ایسا قصہ جس میں انسان بار بار موت کے قریب پہنچتا ہے، مگر ہر مرتبہ زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ انٹر نیشنل نیوز نائجیریا.#creatorsearchinsights #howtogetmoreviewsafterpostingatiktok

About