@wolf49045: یہ قول انسانی نفسیات اور معاشرتی رویوں کی ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کے لیے انسان دل سے، بغیر کسی غرض اور صلے کی امید کے بھلائی کرتا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ انہی میں سے بعض لوگ مخالفت یا دشمنی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کچھ لوگ احسان کو احسان نہیں بلکہ اپنی کمزوری یا دوسروں کی برتری سمجھنے لگتے ہیں۔ جب انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ کسی نے مشکل وقت میں ان کا سہارا دیا تھا، تو بجائے شکر گزار ہونے کے وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، جو کبھی کبھی حسد اور دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ تاہم یہ بات ہر شخص پر لاگو نہیں ہوتی۔ دنیا میں بے شمار ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی کی ایک چھوٹی سی نیکی کو بھی زندگی بھر یاد رکھتے ہیں اور احسان کا احترام کرتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک تلخ تجربے کی بنیاد پر سب لوگوں کے بارے میں منفی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ نیکی ہمیشہ اللہ کی رضا کے لیے کرنی چاہیے، نہ کہ لوگوں سے تعریف، وفاداری یا بدلے کی امید میں۔ اگر انسان اپنی بھلائی کا صلہ صرف لوگوں سے چاہے گا تو مایوسی کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ اسے ایک اخلاقی اور دینی فریضہ سمجھے گا تو دوسروں کے رویے اس کے دل کو زیادہ متاثر نہیں کریں گے۔ زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خدمت، خلوص اور حسنِ سلوک کبھی ضائع نہیں جاتے۔ اگرچہ کچھ لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، مگر اچھا کردار ہمیشہ انسان کی اصل پہچان رہتا ہے۔ اس لیے دوسروں کی ناشکری یا مخالفت کے باوجود نیکی کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ بہترین اجر انسان کو اپنے رب کی طرف سے ملتا ہے۔#motivation #inspiration #foryou #fyp #viral