@shiaisnaaashri: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ضَرْبَةُ عَلِيٍّ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الثَّقَلَيْنِ» ترجمہ: علی کی (وہ ایک) ضربت جو خندق کے دن ماری گئی، ثقلین (جن و انس) کی عبادت سے افضل ہے۔ ثقلین کا مطلب ہے دو بھاری چیزیں یا دو وزنی مخلوقات۔ عربی میں ثَقَل کا مطلب ہے بھاری، وزنی یا ذمہ داری والا۔ اس کا تثنیہ (دو کا صیغہ) ثَقَلَیْن یا الثَّقَلَیْن بنتا ہے۔ اس حدیث کے تناظر میں حدیثِ خندق میں جو جملہ ہے: «ضَرْبَةُ عَلِيٍّ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الثَّقَلَيْنِ» یہاں ثقلین سے مراد جن اور انس (انسان اور جنات) ہیں۔ کیونکہ قرآن اور حدیث میں انسان اور جن کو الثقلان کہا گیا ہے، کیونکہ یہ دونوں مخلوق مکلف ہیں، یعنی ان پر عبادت، اطاعت اور ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لیے حدیث کا مطلب یہ بنتا ہے کہ: علی علیہ السلام کی وہ ایک ضربت، انسانوں اور جنات کی تمام عبادتوں سے افضل اور بھاری ہے