@umarsonu0: یاربِ کریم… آج تیرے سامنے الفاظ بھیگے ہوئے ہیں، اور دل اپنے ہی بوجھ تلے جھکا ہوا ہے۔ میں کیا بتاؤں تجھے، جب تو میرے بتانے سے پہلے ہی سب جانتا ہے؟ میری خاموشی بھی، میری آنکھوں میں رکی ہوئی نمی بھی، وہ آہیں بھی جو ہونٹوں تک نہیں آتیں، اور وہ خوف بھی جسے میں دنیا سے چھپائے پھرتا ہوں۔ لوگ مجھے مضبوط سمجھتے رہے، مگر مولا، تو جانتا ہے میں اندر سے کتنی بار تیرے نام کو پکڑ کر خود کو سنبھالتا رہا ہوں۔ میں آدم زاد ہوں، مولا… مجھ سے ہر وقت مضبوط رہنے کی امید نہ رکھ۔ میں مانتا ہوں، میرا ایمان ہے کہ تیرا ہر فیصلہ حکمت سے خالی نہیں، مجھے یقین ہے کہ تیری تقدیر میں میرے لیے وہ بھی لکھا ہے جس کا مجھے ابھی علم نہیں۔ مگر میرے رب، میں انسان ہوں۔ کبھی کبھی درد دلیلیں نہیں سنتا، کبھی کبھی آنکھیں صبر کا مطلب بھول جاتی ہیں، کبھی کبھی دل اتنا تھک جاتا ہے کہ بس تیرے سامنے گرنے کو جی چاہتا ہے۔ یا اللہ… میں تھک گیا ہوں۔ یہ شکایت نہیں ہے، مولا۔ یہ بس اپنے رب کے سامنے اپنی اوقات کا اعتراف ہے۔ تو جانتا ہے نا، میں نے کتنی بار خود کو سمجھایا ہے؟ کتنی راتیں اپنے ہی دل کو تسلی دیتے گزاری ہیں کہ "اللہ ہے نا…" مگر کبھی کبھی یہی دو لفظ کہتے ہوئے بھی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ پھر دل پوچھتا ہے: "کب تک؟" اور میں اس سوال سے بھی ڈر جاتا ہوں کہ کہیں یہ سوال صبر کی حد سے آگے نہ نکل جائے۔ مولا، میرے دل کو میرے خلاف نہ ہونے دینا۔ مجھے ایسی آزمائش نہ دینا کہ میں تیرے فیصلے سے نہیں، اپنی کمزوری سے ہار جاؤں۔ ایسی محرومی نہ دینا کہ میں نعمتوں کو بھول کر صرف چھینی ہوئی چیزوں کو گننے لگوں۔ ایسی تنہائی نہ دینا کہ لوگوں سے نہیں، تجھ سے بھی بات کرنا مشکل لگنے لگے۔ یا رب… مجھے بچا لینا۔ جب میں کمزور پڑوں تو مجھے پکڑ لینا۔ جب میرا نفس مجھے بہکائے تو میرے دل کو اپنی طرف موڑ دینا۔ جب آنکھوں کے سامنے راستے بند ہوں تو میرے اندر یہ یقین زندہ رکھنا کہ تیرے لیے کوئی راستہ بند نہیں ہوتا۔ میں تجھ سے یہ نہیں کہتا کہ میری زندگی میں کبھی دکھ نہ آئے۔ بس، مولا، جب دکھ آئے تو میرے ایمان سے بڑا نہ ہو۔ جب آنسو آئیں تو میری امید نہ بہا لے جائیں۔ جب کوئی دروازہ بند ہو تو میرا دل تیرے دروازے سے بدگمان نہ ہو۔ مجھے اپنے حوالے مت کرنا، یا اللہ… میں خود کو سنبھال نہیں پاتا۔ تو تو میرا رب ہے۔ تو جانتا ہے میں کہاں ٹوٹتا ہوں۔ تو جانتا ہے کس بات پر خاموش ہو جاتا ہوں۔ تو جانتا ہے کون سا درد مجھے اندر سے کھا رہا ہے۔ میں تجھ سے چھپاؤں بھی تو کیا؟ بس آج اتنا کر دے، مولا… میرے لیے آسانی لکھنے میں اگر ابھی وقت ہے تو مجھے انتظار کا حوصلہ دے دے۔ میرے حالات بدلنے میں اگر تیری حکمت کا کوئی وقت مقرر ہے تو اس وقت تک میرے دل کو اپنے یقین سے باندھے رکھ۔ اور اگر میں کسی ایسی آزمائش میں داخل ہونے والا ہوں جس کا بوجھ مجھے معلوم نہیں، تو میرے رب، اپنے فضل سے پہلے ہی مجھے تھام لے۔ میں آدم زاد ہوں، مولا… مجھے اپنے سہارے کے بغیر نہ آزمانا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آزمائش سہتے سہتے میں وہ شخص بن جاؤں جسے تو نے کبھی بنانا نہیں چاہا تھا۔ میرے دل کی نرمی بچا لے، میرا یقین بچا لے، میری نمازوں کی لذت بچا لے، میرے اندر تجھ سے مانگنے کی یہ عادت بچا لے۔ اور اگر کبھی میرے ہونٹ خاموش ہو جائیں، تو میری آنکھوں کی زبان سمجھ لینا۔ اگر میں کچھ مانگ نہ سکوں، تو میری خاموشی کو دعا سمجھ لینا۔ اور اگر میں صرف تیرے سامنے بیٹھ کر رو دوں… تو اسے بھی قبول کر لینا، مولا۔ کیونکہ میں آدم زاد ہوں، تو جانتا تو ہے۔ میں ہر آزمائش جیتنے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ بس اتنا کر دے، مولا… آزمائش سے پہلے مجھے اپنا بنا لے، اور آزمائش کے دوران مجھے اپنے سے دور نہ ہونے دین