@piyawan.chabang:

🩶
🩶
Open In TikTok:
Region: TH
Friday 18 September 2026 15:41:00 GMT
106
31
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @piyawan.chabang, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے، تو حورِ عین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اسے تکلیف نہ دے، اللہ تجھے ہلاک کرے! وہ تو تیرے پاس چند روزہ مہمان ہے، عنقریب وہ تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آ جائے گا۔‘‘ حوالہ: جامع ترمذی، حدیث نمبر: 1174۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے میاں بیوی کے تعلق میں حسنِ سلوک اختیار کرنے اور بلاوجہ ایک دوسرے کو اذیت پہنچانے سے بچنے کی اہمیت کو بیان فرمایا ہے، یعنی دنیا کی زندگی عارضی اور مختصر ہے اور کسی عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے اسے ناحق تکلیف اور اذیت پہنچے، کیونکہ ہر انسان نے بالآخر دنیا سے رخصت ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ازدواجی زندگی محبت، احترام، صبر اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ گزارنی چاہیے اور غصے، ضد یا معمولی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے کو تکلیف نہیں دینی چاہیے، مثال کے طور پر اگر میاں بیوی کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو جائے تو انہیں سخت الفاظ، توہین اور اذیت دینے کے بجائے نرمی، صبر اور باہمی گفتگو سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یہ حدیث ہمیں ازدواجی تعلقات میں حسنِ اخلاق اختیار کرنے، ایک دوسرے کے حقوق اور عزت کا خیال رکھنے اور ظلم و زیادتی سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اور ہر شخص کو اپنے اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے، تو حورِ عین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اسے تکلیف نہ دے، اللہ تجھے ہلاک کرے! وہ تو تیرے پاس چند روزہ مہمان ہے، عنقریب وہ تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آ جائے گا۔‘‘ حوالہ: جامع ترمذی، حدیث نمبر: 1174۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے میاں بیوی کے تعلق میں حسنِ سلوک اختیار کرنے اور بلاوجہ ایک دوسرے کو اذیت پہنچانے سے بچنے کی اہمیت کو بیان فرمایا ہے، یعنی دنیا کی زندگی عارضی اور مختصر ہے اور کسی عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے اسے ناحق تکلیف اور اذیت پہنچے، کیونکہ ہر انسان نے بالآخر دنیا سے رخصت ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ازدواجی زندگی محبت، احترام، صبر اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ گزارنی چاہیے اور غصے، ضد یا معمولی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے کو تکلیف نہیں دینی چاہیے، مثال کے طور پر اگر میاں بیوی کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو جائے تو انہیں سخت الفاظ، توہین اور اذیت دینے کے بجائے نرمی، صبر اور باہمی گفتگو سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یہ حدیث ہمیں ازدواجی تعلقات میں حسنِ اخلاق اختیار کرنے، ایک دوسرے کے حقوق اور عزت کا خیال رکھنے اور ظلم و زیادتی سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اور ہر شخص کو اپنے اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔

About