@allamaiqqbal: ترانہَ ملی بانگِ درا اے گلستانِ اندلس! وہ دن ہیں یاد تجھ کو تھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارا معانی: تھا تیری ڈالیوں پر جب آشیاں ہمارا: مذکورہ حکومت کی طرف اشارہ ہے ۔ مطلب: اس کے ثبوت میں اندلس اور دجلہ کو ہماری جرات و حوصلے کی داستانیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔ اے موجِ دجلہ! تو بھی پہچانتی ہے ہم کو اب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارا معانی: دجلہ: دریائے دجلہ جس کے کنارے شہر بغداد آباد ہے ۔ مطلب: یہاں کبھی مسلمان سلاطین کا اقتدار پورے عروج پر تھا اور گردوپیش کی وادیاں ان کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی زد میں ہوتی تھیں ۔ اے ارضِ پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم ہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا معانی: ارضِ پاک: مراد سرزمین حجاز جس کی حدود میں مکہ و مدینہ واقع ہیں ۔ کٹ مرنا: جہاد میں شہید ہونا ۔ خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا: مراد حجاز کی عزت و توقیر بڑھانے کے لیے مسلمانوں نے کس قدر قربانیاں دیں ۔ مطلب: اے سرزمین حجاز! کیا تو اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ ہم نے تیری عزت و حرمت کے لیے ہمیشہ اپنی جانیں قربان کی ہیں اور آج بھی تیری رگوں میں ہمارا خون رواں دواں ہے ۔ سالارِ کارواں ہے میرِ حجاز اپنا اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا معانی سالارِ کارواں : قافلے کا سربراہ ملت اسلامیہ کے سالار ۔ آرامِ جاں : روح کا سکون ۔ مطلب: اے سرزمین حجاز! تو جانتی ہے کہ تیرا والی و آقا ہمارے قافلے کا سالار اول ہے یعنی حضور سرورکائنات ﷺ کی تعلیمات کی روشنی سے ہم رہنمائی حاصل کر رہے ہیں ۔ یہی نام عملاً اسم اعظم کی طرح ہے جو ہمارے بے چین اور مضطرب دلوں کو سکون و اطمینان سے ہم کنار کرتا ہے ۔ . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari