@malo_drunks: #Love #feeling #yellowfont

❀
❀
Open In TikTok:
Region: DE
Friday 18 September 2026 20:19:17 GMT
20408
2896
2
516

Music

Download

Comments

ingrid16732
𝐼𝓃𝑔𝓇𝒾𝒹 :
@🪽Lilli🪽
2026-09-30 17:09:31
1
alexandra.muc08
𝐚𝐥𝐞𝐱𝐚𝐧𝐝𝐫𝐚 :
@Stefan Hackl
2026-09-18 21:26:11
1
To see more videos from user @malo_drunks, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق ہونے والی مصری فضائی میزبان عزہ رمزی کے بھائی نے اپنی بہن کی موت سے قبل ہونے والی آخری ویڈیو کال اور ان کے ادھورے خوابوں کے بارے میں دل دہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔   العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے عزہ رمزی کے بھائی نے بتایا کہ ان کی بہن گزشتہ چار سال سے سعودی عرب میں ایک ایئرلائن کے ساتھ کام کر رہی تھیں۔ واقعے سے محض 15 گھنٹے قبل ان کی اپنی بہن سے آخری مرتبہ ویڈیو کال پر بات ہوئی تھی۔ اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ گفتگو ان کی زندگی کی آخری یاد بن جائے گی۔   عزہ نے اپنے اہل خانہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد مصر واپس آئیں گی اور سب سے ملاقات کریں گی، لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔   ان کے بھائی کے مطابق، عزہ کی عمر شادی کے قابل تھی، اسی لیے تدفین کے جلوس کے دوران ان کا عروسی لباس تابوت پر رکھا گیا۔ یہ منظر اہل خانہ کے لیے ان خوابوں اور خوشیوں کی یاد بن گیا جو عزہ اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتی تھیں۔   غم سے نڈھال بھائی نے کہا کہ انہوں نے اپنی روح اور زندگی کا ایک قیمتی حصہ کھو دیا ہے۔ ان کے بقول، خاندان کا نقصان بہت بڑا ہے اور بہن سے جدائی کا درد الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔   عزہ رمزی کی کہانی اس سانحے سے متاثر ہونے والے خاندانوں کے دکھ اور ان خوابوں کی یاد دلاتی ہے جو اچانک پیش آنے والے واقعات کے باعث ادھورے رہ جاتے ہیں۔۔
ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق ہونے والی مصری فضائی میزبان عزہ رمزی کے بھائی نے اپنی بہن کی موت سے قبل ہونے والی آخری ویڈیو کال اور ان کے ادھورے خوابوں کے بارے میں دل دہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے عزہ رمزی کے بھائی نے بتایا کہ ان کی بہن گزشتہ چار سال سے سعودی عرب میں ایک ایئرلائن کے ساتھ کام کر رہی تھیں۔ واقعے سے محض 15 گھنٹے قبل ان کی اپنی بہن سے آخری مرتبہ ویڈیو کال پر بات ہوئی تھی۔ اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ گفتگو ان کی زندگی کی آخری یاد بن جائے گی۔ عزہ نے اپنے اہل خانہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد مصر واپس آئیں گی اور سب سے ملاقات کریں گی، لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ ان کے بھائی کے مطابق، عزہ کی عمر شادی کے قابل تھی، اسی لیے تدفین کے جلوس کے دوران ان کا عروسی لباس تابوت پر رکھا گیا۔ یہ منظر اہل خانہ کے لیے ان خوابوں اور خوشیوں کی یاد بن گیا جو عزہ اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتی تھیں۔ غم سے نڈھال بھائی نے کہا کہ انہوں نے اپنی روح اور زندگی کا ایک قیمتی حصہ کھو دیا ہے۔ ان کے بقول، خاندان کا نقصان بہت بڑا ہے اور بہن سے جدائی کا درد الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ عزہ رمزی کی کہانی اس سانحے سے متاثر ہونے والے خاندانوں کے دکھ اور ان خوابوں کی یاد دلاتی ہے جو اچانک پیش آنے والے واقعات کے باعث ادھورے رہ جاتے ہیں۔۔

About