@nayabpagl: ترکیہ سے تعلق رکھنے والی فاطمہ چیلک (Fatma Çelik) نے پیدائشی طور پر بینائی سے محرومی کے باوجود قرآنِ کریم حفظ کرکے عزم، صبر اور قرآن سے محبت کی ایک متاثر کن مثال قائم کی۔ فاطمہ چیلک بریل کے ذریعے قرآنِ کریم پڑھنے سے قاصر تھیں، چنانچہ انہوں نے اپنے استاد کی ریکارڈ کردہ آڈیو کیسٹوں سے قرآن سن کر اسے حفظ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا یہ سفر 2002ء سے 2019ء تک 17 سال جاری رہا۔ اس دوران انہیں والد کی وفات کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا اور وہ دو مرتبہ کینسر کے مرض سے بھی گزریں، لیکن قرآنِ کریم کی تلاوت اور حفظ کا سلسلہ جاری رکھا۔ فاطمہ کے مطابق آیات یاد کرنے اور بار بار دہرانے کے لیے وہ دن رات آڈیو کیسٹیں سنتی رہیں۔ مسلسل استعمال کے باعث قرآن مکمل ہونے تک ان کے چھ آڈیو ٹیپ ریکارڈر خراب ہوگئے۔ ان کی داستان اس بات کی حوصلہ افزا مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے کہ جسمانی مشکلات کے باوجود مسلسل محنت، صبر اور قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق کے ذریعے انسان اپنے مقصد کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم کو ہمارے دلوں کا نور بنائے، اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔