@zaheer.ud.din93: #onthisday #میاں بیوی کا رشتہ — جہاں اعتماد ٹوٹ جائے، وہاں دل بھی ٹوٹ جاتا ہے میاں بیوی کا رشتہ صرف ایک نکاح، ایک گھر یا چند ذمہ داریوں کا نام نہیں۔ یہ دو انسانوں کے درمیان قائم ہونے والا وہ عہد ہے جس کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے۔ محبت کبھی کم زیادہ ہو سکتی ہے، مزاج بدل سکتے ہیں، حالات سخت ہو سکتے ہیں، مگر اگر اعتماد قائم رہے تو رشتہ بہت سے طوفانوں کا مقابلہ کر لیتا ہے۔ لیکن جب یہی اعتماد ٹوٹ جائے تو انسان صرف اپنے شریکِ حیات سے نہیں ٹوٹتا، وہ اپنے اندر سے بھی بکھرنے لگتا ہے۔ کسی کے ساتھ دھوکا صرف یہ نہیں کہ آپ نے کسی اور سے تعلق قائم کر لیا۔ دھوکا یہ بھی ہے کہ آپ نے اُس شخص سے کچھ چھپایا جس نے آپ پر اپنا سب کچھ بھروسہ کرکے رکھا تھا۔ وہ شخص جو آپ کے سامنے بے فکر ہو کر سوتا ہے، اسے یقین ہوتا ہے کہ جس انسان کو اس نے اپنا سمجھا ہے، وہ اس کے پیچھے بھی اسی کا رہے گا۔ وہ آپ کو اپنا راز بتاتا ہے، اپنی کمزوریاں دکھاتا ہے، اپنے خوف آپ کے سامنے رکھتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ شخص مجھے توڑنے کے لیے نہیں، سنبھالنے کے لیے ہے۔ مگر جب یہی یقین ٹوٹتا ہے تو تکلیف صرف اس بات کی نہیں ہوتی کہ کیا ہوا؛ اصل اذیت یہ ہوتی ہے کہ: “جس انسان پر سب سے زیادہ اعتبار کیا، آخر وہی میرے اعتماد کا محافظ کیوں نہ بن سکا؟” اعتماد شیشے کی طرح ہوتا ہے۔ اسے توڑنے میں شاید ایک لمحہ لگے، لیکن اس کے ٹکڑوں کو دوبارہ جوڑنے میں کبھی کبھی پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ اور یاد رکھیے، ہر خیانت جسمانی نہیں ہوتی۔ کبھی کسی دوسرے سے چھپ چھپ کر باتیں کرنا بھی خیانت ہے۔ کبھی اپنے شریکِ حیات سے مسلسل جھوٹ بولنا بھی خیانت ہے۔ کبھی کسی اور کو وہ توجہ دینا جو آپ کے شریکِ حیات کا حق تھی، بھی خیانت بن جاتی ہے۔ اور کبھی اپنے شریکِ حیات کی عزت، راز اور کمزوریوں کو دوسروں کے سامنے تماشا بنا دینا بھی اعتماد توڑ دیتا ہے۔ سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اعتماد ٹوٹنے کے بعد انسان ہر چیز پر شک کرنے لگتا ہے۔ پہلے ایک پیغام پر یقین ہوتا تھا، پھر سوال ہونے لگتا ہے۔ پہلے دیر سے آنے پر فکر ہوتی تھی، پھر شک ہونے لگتا ہے۔ پہلے خاموشی سکون دیتی تھی، پھر خوف پیدا کرنے لگتی ہے۔ اور یوں ایک شخص جو کبھی اپنے شریکِ حیات کے لیے گھر تھا، وہی آہستہ آہستہ اس کے لیے سوال بن جاتا ہے۔ رشتے میں غلطی ہو جائے تو معافی ممکن ہے، مگر معافی اور اعتماد ایک چیز نہیں۔ معافی زبان سے دی جا سکتی ہے، اعتماد دوبارہ وقت سے بنتا ہے۔ اس لیے جو لوگ اپنے شریکِ حیات کا اعتماد رکھتے ہیں، انہیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ کیونکہ دنیا میں بہت سے لوگ محبت کا دعویٰ کر سکتے ہیں، مگر ہر کوئی آپ کو وہ اعتماد نہیں دیتا جس میں وہ اپنی پوری زندگی آپ کے ہاتھ میں رکھ دے۔ اور اگر کبھی آپ کو لگے کہ آپ کے شریکِ حیات کو آپ کی کسی بات کا پتا نہیں چلے گا، تو ایک لمحے کے لیے یہ ضرور سوچ لیجیے: شاید اسے حقیقت کبھی معلوم نہ ہو، مگر آپ کے عمل نے آپ کے اپنے کردار کو ضرور بدل دیا ہے۔ رشتہ اس وقت نہیں ٹوٹتا جب سچ سامنے آتا ہے۔ کبھی کبھی رشتہ اُس دن ٹوٹ جاتا ہے، جس دن ایک شخص کو پہلی بار محسوس ہوتا ہے کہ جسے وہ اپنا سمجھتا تھا، وہ اس کے ساتھ مخلص نہیں تھا۔ اس لیے اپنے شریکِ حیات کے دل کے ساتھ کھیلنے سے پہلے سوچیں۔ کیونکہ دل توڑنے والے کو شاید ایک لمحے کی آزادی مل جائے، مگر ٹوٹے ہوئے دل کو اکثر ساری عمر اُس لمحے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ میاں بیوی کا اصل حسن یہ نہیں کہ وہ کبھی لڑتے نہیں۔ اصل حسن یہ ہے کہ لاکھ اختلافات کے باوجود دونوں کو یہ یقین ہو: “میرا شریکِ حیات میرے خلاف نہیں جائے گا۔ وہ میرے پیچھے بھی میرا ہی رہے گا۔ اور اگر پوری دنیا میرے خلاف کھڑی ہو جائے، تب بھی میں اُس کے کردار پر شک نہیں کروں گا۔” کیونکہ شادی دو جسموں کا ساتھ نہیں، دو دلوں کے درمیان اعتماد کی حفاظت کا نام ہے۔ اور جس دن یہ اعتماد مر جائے، اُس دن ایک چھت کے نیچے رہنے والے دو انسان بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو سکتے ہیں۔#ٹک_ٹوک_پلیز_یہ_وڈیو_وائرل #trendingsong #