@imamali_5_12: "لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ، وَ زَكَاةُ الْعَقْلِ احْتِمَالُ الْجُهَّالِ۔ ".ترجمہ ہر چیز کی ایک زکوٰۃ ہوتی ہے، اور عقل کی زکوٰۃ جاہلوں کی باتوں کو برداشت کرنا ہے۔ . زکوٰۃ کا مفہوم (پاکیزگی اور اضافہ) عربی لغت اور اسلامی اصطلاح میں "زکوٰۃ" کا مطلب صرف مال کا دینا نہیں، بلکہ اس کے لغوی معنی پاک کرنا اور بڑھانا ہیں۔ جس طرح مال کی زکوٰۃ دینے سے مال پاک ہو جاتا ہے اور اس میں برکت ہوتی ہے، اسی طرح عقل کو بھی پاک رکھنے اور اسے نکھارنے کے لیے ایک زکوٰۃ مقرر ہے۔ ۔ عقل کی زکوٰۃ: برداشت (حلم) صاحبِ عقل انسان کے لیے سب سے بڑی آزمائش جاہل اور نادان لوگوں کے ساتھ واسطہ پڑنا ہے۔ حضرت علیؑ کے مطابق، عقل کی زکوٰۃ یہ ہے کہ جب آپ کا سامنا کسی جاہل، بدتمیز یا کم عقل انسان سے ہو، تو آپ اس کی کڑوی، بے جا اور نادانی پر مبنی باتوں کو برداشت کریں (احْتِمَالُ الْجُهَّالِ)۔ ۔ جاہل کا جواب خاموشی ہے اگر ایک عقل مند انسان جاہل کی بات پر اسی کے لہجے میں جواب دے گا، تو دونوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا اور عقل مند کی اپنی عقل داغدار ہو جائے گی۔ جاہلوں کی باتوں پر صبر کرنا اور بحث کو طول نہ دینا ہی عقل کا کمال ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں بھی رحمان کے بندوں کی صفت بیان ۔کی گئی ہے "وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا" ۔(اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلام کہہ کر الگ ہو جاتے ہیں)۔ خلاصہ: یہ حکمت ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشرے میں ذہنی سکون اور اخلاقی برتری برقرار رکھنے کے لیے نادان لوگوں کی باتوں سے درگزر کرنا ہی حقیقی دانشمندی اور عقل کا شکرانہ ہے۔